میری والدہ

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 80 of 102

میری والدہ — Page 80

۸۰ جسے میں مدد کے لئے بلا سکتی یا مدد کے لئے بھیج سکتی۔آخر میں نے خیال کیا کہ میں خود ہی ہمت کر کے اس شیخ کو اس کے پاؤں سے بھینچ کر نکال دوں۔لیکن جب میں نے اس کے پاؤں کی طرف ہاتھ بڑھایا تو وہ بہت گھبرائی اور منت کرنے لگی کہ آپ اسے نہ چھیڑیں مجھ سے درد برداشت نہ ہو سکے گا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے ہمت عطا فرمائی اور میں نے ایک ہاتھ سے اس کے پاؤں کو مضبوط پکڑ لیا اور دوسرے ہاتھ سے شیخ کے سر کو پکڑ کر زور سے اسے بھینچ لیا۔یہ مین کوئی اڑھائی تین انچ لمبی تھی اور تھی زنگ آلود۔اس عورت کے پاؤں سے فوارہ کی طرح خون جاری ہو گیا۔پہلے تو درد سے وہ اور بے حال ہوئی لیکن پھر اسے کچھ آرام محسوس ہونے لگا۔میں نے اس سے کہا۔ہمارا امکان یہاں سے قریب ہی ہے تم ہمت کر کے میرے ساتھ چلو۔میں تیل ابال کر اور اس میں روئی بھگو کر تمہارے پاؤں پر باندھوں گی۔تاکہ زخم میں کسی قسم کا زہر پیدا نہ ہو جائے اور تمام رات خود تمہاری خدمت کرونگی۔لیکن اس عورت نے کہا میرا گاؤں قریب ہی ہے میں ان لڑکیوں کی مدد سے اپنے گھر پہنچ جاؤں گی۔جب والدہ صاحبہ نے مجھے یہ واقعہ سنایا تو میں نے عرض کی کہ آپ مکان پر پہنچ کر کسی خادم کو حکم دیتیں وہ جا کر اس عورت کو لے آتا۔والدہ صاحبہ نے فرمایا۔وہ اپنے گھر جانے پر انہی ایام میں والدہ صاحبہ نے بتایا کہ کئی بار میں نے غنودگی کی حالت میں سنا ہے کہ کوئی شخص کہتا ہے کچھ ہونے والا ہے اور ایک دوسرا شخص جواب میں کہتا ہے۔اب کی بار تو ہوکر رہے گا۔۲۷ یا ۲۸ کو فرمایا۔میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ سات جنازے مقبرہ بہشتی میں ساتھ ساتھ رکھے ہوئے ہیں۔۳۰ ۱ اپریل کو جس دن قادیان سے ہماری روانگی تھی۔والدہ صاحبہ نے زیادہ تکلیف کا اظہار کیا۔میں نے عرض کی کہ میں ڈاکٹر صاحب کو بلوانے کی کوشش کرتا