میری والدہ

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 79 of 102

میری والدہ — Page 79

سواری کا انتظام کرتا۔تو فرمایا نہیں بیٹا مسجد تک جانے میں کیا تکلیف۔جب والدہ صاحبہ کو معلوم ہوا کہ حضرت خلیفتہ ایچ نے ۲۵ اپریل کو سندھ کی طرف روانگی کا ارادہ فرمایا ہے۔تو کچھ افسردہ کی ہو گئیں۔دو روز کے بعد معلوم ہوا کہ حضور ۲۷ اپریل کو قادیان سے روانہ ہوں گے۔تو خوشی خوشی مجھے بتایا کہ تم نے سنا حضرت صاحب ۲۷ کو روانہ ہوں گے؟ میں نے کہا ہاں میں نے بھی سنا ہے۔پھر دوبارہ مجھ سے کہا۔۲۷ تاریخ ہے۔میں نے کہا میں سمجھتا ہوں مراد ان کی یہ تھی کہ ۲ کو آخری بدھوار اپریل کے مہینے کا ہے اور اگر اس سال میرا خواب ظاہری رنگ میں پورا ہونا ہے تو حضرت صاحب میرا جنازہ پڑھا کر قادیان سے روانہ ہوں گے۔ار کی صبح کو فجر کی نماز کے بعد وہ آخری بار مقبرہ بہشتی گئیں۔اس دن مجھ سے شکایت کی کہ میں محسوس کرتی ہوں کہ میرے جسم کے اندر حرارت ہے۔لیکن بظاہر اور کوئی تکلیف انہیں نہیں تھی۔غالباً اسی شام یا ۲۸ ء کی شام کو میرے ساتھ مندرجہ ذیل واقعہ کا ذکر کیا۔رحمدلی کا ایک واقعہ فرمایا آج میں شہر سے واپس آ رہی تھی۔دار الانوار میں دیکھا کہ ایک عورت سڑک کے کنارے پر دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھی ہے اور دولڑ کیاں اس کے پاس بیٹھی ہیں۔پہلے تو میں اُن کے پاس سے گزر آئی۔لیکن چند قدم آگے آ کر میرے ذہن میں آیا کہ اس عورت کو کچھ تکلیف ہے۔چنانچہ میں واپس گئی اور اُس عورت کے پاس بیٹھ گئی۔میں نے دیکھا کہ وہ خود بھی اپنا ایک پاؤں دبا رہی ہے اور وہ لڑکیاں بھی اُس کا پاؤں دبا رہی ہیں۔عورت درد سے کراہ رہی تھی۔میں نے اُس کے پاؤں کو غور سے دیکھا۔تو معلوم ہوا کہ ایک لمبی پیچ اُس کے پاؤں میں گڑی ہوئی ہے۔وہ خود درد سے بے حال ہو رہی تھی۔میں اکیلی تھی۔میرے قریب بھی کوئی ایسا آدمی نہیں تھا۔