میری والدہ — Page 71
چنانچہ صبح ہونے پر والدہ صاحبہ نے میری بیوی کو یہ رویا سنایا اور دریافت کیا کہ کیا اس کے پورا ہونے کے آثار ہیں؟ اُس نے کچھ حجاب کی وجہ سے اور کچھ اس وجہ سے کہ اُسے خود بھی پورا یقین نہیں تھا کہ دیا نہیں ابھی تو کوئی آثار نہیں ہیں۔والدہ صاحبہ نے کہا تم انکار کرتی ہو مجھے تواللہ تعالیٰ نے بڑی صفائی سے اطلاع دے دی ہے اور مجھے یقین ہے کہ وہ اپنے فضل سے اس بشارت کو پورا کریگا۔چنانچہ ۱۲ جنوری ۱۹۳۷ء کو عزیزہ امتہ ائی پیدا ہوئی۔اس کا یوم پیدائش بھی بہت مبارک ہے۔کیونکہ یہی تاریخ حضرت خلیفہ اسیح ثانی کی ولادت مبارکہ کی ہے۔اس کے پیدا ہونے سے چند گھنٹے قبل والدہ صاحبہ نے میری بیوی سے کہا کہ لڑکی پیدا ہوگی۔کیونکہ میں نے ابھی غنودگی کی حالت میں دیکھا کہ مکان میں بہت چہل پہل ہے اور لوگ کہتے ہیں : بی بی آئی ہے بہت خوبصورت" والدہ صاحبہ کو امتہائی کے پیدا ہونے کی بہت ہی خوشی ہوئی۔کیونکہ وہ خاکسار کے ہاں اولاد کی بہت آرزو رکھتی تھیں اور اس کے لئے بہت دعائیں کرتی رہتی تھیں۔امتہائی کی پیدائش کے بعد مجھے فرمایا۔بیٹا پچھلے سال تو میں اس رنگ میں بھی دُعا کرتی رہی۔کہ یا اللہ لوگ جب مجھ سے دعا کے لئے کہتے ہیں تو میں شرمندہ ہو جاتی ہوں کہ یہ ایک دعا میں اتنی مدت سے کر رہی ہوں اور ابھی تک تیری رحمت کا دروازہ نہیں کھلا۔اب اُس نے میری یہ دعا بھی سُن لی۔میں اُس کی کس کس رحمت کا شکر ادا کروں۔والدہ صاحبہ کی بعض خوابوں کا ذکر والدہ صاحبہ کے بہت سے رویا اور خوابوں کا ذکر ان واقعات کے تعلق میں آپکا ہے۔جواب تک میں نے بیان کئے ہیں۔بعض دیگر رویاء کا میں ابھی ذکر کروں گا۔