میری والدہ — Page 69
۶۹ میر انعام اللہ شاہ صاحب کی وفات کے متعلق خواب اپریل ۱۹۳۵ء میں میر انعام اللہ شاہ صاحب مرحوم حیدر آباد دکن تشریف لے گئے اور آخرمئی میں وہاں سخت بیمار ہو گئے۔جب اُن کی بیماری کی اطلاع ملی۔تو میں نے والدہ صاحبہ کی خدمت میں دعا کے لئے عرض کی۔انہیں میر صاحب کے ساتھ بہت اُنس تھا۔فرمایا دعا کروں گی۔لیکن ساتھ ہی بہت تشویش کا اظہار کیا اور کچھ عرصہ قبل کا اپنا ایک خواب سنایا کہ ایک مکان کی اوپر کی منزل کے صحن میں میر صاحب اور عزیز چوہدری بشیر احمد کے ساتھ ایک پلنگ پر بیٹھی ہوں کہ کھڑکی میں سے چوہدری جلال الدین صاحب محسن میں آگئے۔میں دل میں ڈری کہ یہ تو فوت ہو چکے ہوئے ہیں۔یہ یہاں کیسے آگئے۔میں نے بشیر احمد کو اشارہ کیا کہ ہم کمرے کے اندر چلے جائیں۔چنانچہ بشیر احمد نے دروازہ کھولا اور ہم دونوں کمرے کے اندر چلے گئے۔میں نے دروازہ کے شیشہ میں سے دیکھا کہ چوہدری جلال الدین صاحب میر صاحب کے پاس پلنگ پر بیٹھ گئے اور پھر دونوں ایک ہی لحاف اوڑھ کر اُسی پلنگ پر لیٹ گئے۔خاکسار نے جب یہ خواب سنا تو والدہ صاحبہ کی خدمت میں عرض کی کہ اس کی تعبیر تو بالکل واضح ہے۔اگر آپ اسی وقت بتا دیتیں تو میں میر صاحب کو حیدر آباد سے واپس چلے آنے کی تحریک کرتا لیکن اب سوائے دعا کے اور کیا چارہ ہے۔دو دن بعد تہجد اور فجر کے درمیان والدہ صاحبہ پلنگ پر لیٹی ہوئی میر صاحب کی صحت کے لئے ہی دعا کر رہی تھیں کہ آواز آئی کہ اُس کا کرنٹ (Current) بند کر دیا گیا ہے فورا اُٹھ کر میری بیوی کے کمرے میں گئیں اور اُسے جگا کر کہا۔میر صاحب فوت ہو گئے ہیں۔صبح کو حیدر آباد سے تار آیا کہ میر صاحب رات فوت ہو گئے ہیں اور بعد میں جب تفصیلی حالات معلوم ہوئے تو معلوم ہوا کہ اُن کی وفات عین اُس وقت ہوئی جس وقت والدہ صاحبہ کو بتایا گیا کہ ان کا کرنٹ بند کر دیا گیا ہے۔