میری والدہ

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 63 of 102

میری والدہ — Page 63

۶۳ صاحب کسی تعطیل کے دن ہمارے مکان پر تشریف لائے اور دریافت کیا کہ والد صاحب کہاں ہیں؟ دفتر میں شاید اُس وقت کوئی محرر یا ملازم موجود نہیں تھا۔اِن صاحب نے خیال کیا کہ شاید والد صاحب پہلی منزل پر ہوں۔اُنہوں نے بلند آواز سے والد صاحب کو بلایا۔والدہ صاحبہ نے مجھ سے فرمایا کہہ دو چوہدری صاحب گھر پر نہیں ہیں۔میں نے یوں ہی کہہ دیا۔ان صاحب نے دریافت کیا کہاں ہیں۔والدہ صاحبہ نے فرمایا کہہ دو قادیان گئے ہوئے ہیں۔یہ سن کر اُن صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شان میں کوئی خلاف ادب کلمہ کہا۔اب تک تو والدہ صاحبہ میری معرفت جواب دے رہی تھیں۔یہ کلمہ سنتے ہی غصہ سے بیتاب ہو گئیں اور کھڑکی کے پاس جا کر جوش سے اُن صاحب سے کہا : - " تم نے بہت ظلم کیا ہے۔اگر خیریت چاہتے ہو تو اسی وقت میرے مکان سے نکل جاؤ۔کوئی ہے ملازم یہاں ؟ نکال دو اس گستاخ بڑھے کو اور یاد رکھو پھر بھی یہ اس مکان میں داخل نہ ہونے پائے۔اب آلے اس کا دوست جس کے ساتھ یہ مثنوی پڑھنے کے لئے یہاں آتا ہے تو لوں گی اُس کی خبر کہ ایسے بے ادب گستاخ کے ساتھ کیوں نشست برخاست جاری رکھی ہوئی 6 ہے ہے۔وہ صاحب تو اُسی وقت چلے گئے۔والد صاحب کی واپسی پر والدہ صاحبہ نے بہت رنج کا اظہار کیا اور اصرار کیا کہ اب وہ صاحب بھی ہمارے مکان کے اندر داخل نہ ہوں۔چنانچہ اُس دن کے بعد پھر وہ ہمارے مکان پر نہیں آئے۔یہ حالت تو ابتدائے عشق کی تھی۔پھر جوں جوں وقت گزرتا گیا۔غیرت بھی بڑھتی گئی۔خاندانِ نبوت کے ساتھ جس قدر اخلاص اور محبت نہیں تھی۔اُس کا کسی قد راندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ بارہا میں نے اُس سے سُنا ہے کہ میں بھی کوئی دعا