میری والدہ

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 53 of 102

میری والدہ — Page 53

۵۳ جاتی ہے۔اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا۔” بیٹا میں کوئی پڑھی لکھی عورت نہیں ہوں اور کوئی علم میں نے حاصل نہیں کیا۔بس اتنا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتی ہوں اور اس سے محبت کرتی ہوں۔میں نے خیال کیا کہ سارے علوم کا نچوڑ تو یہی ہے۔ایک حادثہ کے متعلق رویا ۱۹۳۱-۳۲ء میں میری رہائش زیادہ تر دہلی میں رہی۔کیونکہ اُن دنوں میں میں سازش دہلی کے مقدمہ میں سرکار کی طرف سے پیروی کر رہا تھا۔بڑے دن کی تعطیلات میں جلسہ پر حاضر ہوا۔جلسہ کے بعد لاہور چلا گیا۔والدہ اُن دنوں زیادہ تر لاہور قیام رکھا کرتی تھیں۔۳۱ دسمبر ۱۹۳۱ء کی سہ پہر کو میں نے دیکھا کہ بہت افسردہ نظر آ رہی ہیں اور بار بار آنکھیں پُر نم ہو جاتی ہیں۔میں نے دریافت کیا کہ کیا وجہ ہے۔تو کہا کوئی خاص وجہ نہیں۔کل دہلی واپس جا رہے ہو اس لئے طبیعت افسردہ میں نے کہا آپ بھی ساتھ چلیں۔تو جواب دیا نہیں میں چند دن بعد آ جاؤں ہے۔نے کہ یکم جنوری ۱۹۳۲ء کو خاکسار قریب ابجے قبل دو پہر موٹر میں لاہور سے دہلی کی جانب روانہ ہو ا۔۲ بجنے میں ۲۰ منٹ پر کرتار پور اور جالندھر کے درمیان موٹر کی ٹکر ایک چھکڑے کے ساتھ ہو گئی اور خاکسار کو چہرہ پر شدید چوٹیں آئیں۔اسی حالت میں خاکسار کو جالندھر شہر کے ہسپتال میں لے جایا گیا۔شام کے وقت ٹیلیفون پر لاہور اطلاع کی گئی اور والدہ صاحبہ اُسی وقت روانہ ہو کر 11 بجے رات کے قریب جالندھر پہنچ گئیں۔میری حالت کے متعلق تفاصیل معلوم کرنے کے بعد فرمایا۔کل جو میں اس قدر افسردہ تھی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ میں نے پرسوں رات ایک خواب دیکھا تھا۔جس کا