میری والدہ — Page 50
۵۰ اس خواہش کا اظہار والدہ صاحبہ سے بھی کر دیا تھا۔خاکسار کو بھی گوارا نہ تھا کہ والدہ صاحبہ اب خاکسار سے الگ رہیں۔چنانچہ مجھے یہ سعادت نصیب ہوئی کہ والدہ صاحبہ نے اپنی بقیہ حیات کا اکثر حصہ خاکسار کے ہی پاس گزارا اور ہمارے گھر کو اپنے مبارک وجود سے منور رکھا اور ہم جو اُن کے ارد گرد رہتے تھے۔ہر لحظہ اُن کی دعاؤں سے فیضیاب ہوتے رہے۔یہ بارہ سال کا عرصہ کس قدر مبارک تھا۔لیکن کس قدر مختصر اور زود رفتار ! اس عرصہ کے شروع میں میرا یہ معمول تھا کہ میں ہر روز عشاء کی نماز کے بعد والدہ صاحبہ کی خدمت میں حاضر ہو جایا کرتا تھا اور چند منٹ ہم اپنے راز و نیاز کی باتوں میں گزار لیا کرتے تھے۔یہ معمول تو آخر تک رہا۔لیکن پہلے ایک دو سال کے بعد بعض دفعہ اس میں ناغہ بھی ہو جایا کرتا تھا۔اُن کا دل نہایت نازک احساس تھا۔اس لئے وہ ذراز اسی بات سے نتیجہ اخذ کر لیا کرتی تھیں۔مجھ سے کئی قصور اور کوتاہیاں ہو ئیں اور بعض دفعہ گستاخی کا ارتکاب بھی ہوا۔لیکن اُن کے عفو کی چادر بہت وسیع تھی اور وہ میرے تصور بہت جلد معاف کر دیا کرتی تھیں۔لیکن ذراسی خدمت یا محبت کے اظہار پر اُن کی دعاؤں کا ایک لمبا سلسلہ جاری ہو جایا کرتا تھا اور یہ سلوک کچھ خاکسار ہی کے ساتھ مخصوص نہ تھا۔ہر وہ شخص جس کا اُن کے ساتھ ڈور کا بھی تعلق ہوا۔وہ اس بات کا شاہد ہے کہ وہ عفو اور بخشش اور اجر دینے اور خیرات کرنے میں بہت جلدی کیا کرتی تھیں اور بہت فیاضی سے کام لیا کرتی تھیں۔ایک دفعہ انہوں نے مجھ سے کہا۔میں بعض دفعہ حیران ہوتی ہوں کہ تم میری اس قدر اطاعت کیوں کرتے ہو۔میں نے جواب دیا کہ اول تو اس لئے کہ آپ میر کی والدہ ہیں اور اللہ تعالٰی نے آپ کی اطاعت مجھ پر فرض کی ہے۔دوسرے اس لئے کہ میں آپ کی طرف سے لا انتہاء محبت کا مورد ہوں۔تیسرے اس لئے کہ میں خواہش رکھتا ہوں کہ جب آپ والد صاحب سے ملیں۔تو اُن سے کہہ سکیں کہ آپ