میری والدہ — Page 46
۴۶ والدہ صاحبہ نے کلمہ شریف پڑھا اور اناللہ وانا الیہ راجعون کہا اور دعا کی۔یا اللہ اپنے فضل سے انہیں اپنی رحمت کے سایہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قدموں میں جگہ دیجیو۔پھر خاکسار سے مخاطب ہو کر کہا، پلنگ مردانے میں لے جاؤ اور انہیں قادیان لے چلنے کی تیاری کرو۔اس تیاری کے دوران میں میں دبے پاؤں دو تین بار زنانہ میں گیا۔تا معلوم کروں کہ والدہ صاحبہ کا کیا حال ہے۔میں نے دیکھا کہ وہ مستورات میں بیٹھی ہوئی اطمینان سے والد صاحب کی بیماری کے حالات بیان کر رہی ہیں۔جب سب تیاری ہو چکی تو جنازہ پڑھا گیا اور والدہ صاحبہ بھی مع مستورات کوٹھی کے برآمدہ میں صف بندی کر کے جنازہ میں شامل ہوئیں۔صندوق موٹر میں رکھنے سے پیشتر میرے بازو کا سہارا لے کر صندوق کے پاس آئیں اور کہا: اللہ کے سپرد۔آپ نے مجھے ہر طرح سے خوش رکھا اور میری چھوٹی سے چھوٹی خواہش کو پورا کیا۔میرا دل ہمیشہ آپ پر راضی رہا۔مجھے تو یاد نہیں کہ آپ کی طرف سے مجھے کوئی تکلیف یا رنج پہنچا۔ہو لیکن اگر کبھی ایسا ہوا ہو۔تو میں اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر آپ کو معاف کرتی ہوں۔مجھ سے کئی قصور اور کوتاہیاں سرزد ہوئیں۔ان کی معافی میں اللہ تعالیٰ سے طلب کرونگی۔اللہ تعالٰی آپ کو اپنی رحمت کے سایہ میں جگہ دے۔اپنے والد صاحب کو میرا سلام پہنچا دینا اور اگر ہو سکے۔تو اپنی حالت کی ہمیں اطلاع دینا۔اس تمام عرصہ میں یہ ایک آخری فقرہ ہی اُن کے دل کے کرب کا شاہد ہوا اور غالبا یہ بھی بے اختیاری میں منہ سے نکل گیا۔ورنہ خدا تعالی کی رضا کو انہوں نے نہ صرف صبر سے بلکہ بشاشت سے، قبول کیا اور اس نصف صدی کی با محبت اور باوفا