میری والدہ — Page 41
میں چاہتا ہوں کہ چند ہدایات تمہیں لکھوا دوں۔میں نے کاغذ قلم لے لیا اور انہوں نے چند مختصری ہدایات لکھواد ہیں۔جن میں سے ایک یہ تھی کہ حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کرنا کہ اگر باعث تکلیف نہ ہو ( حضور ان ایام میں ڈلہوزی تشریف فرما تھے ) تو میرا جنازہ حضور خود پڑھا دیں۔اس کے بعد پھر آخر تک اُنہوں نے کسی قسم کی خواہش کا اظہار نہیں کیا کہ یوں کرنا یا یوں نہ کرنا۔گو ان کی صحت اس کے بعد بظاہر اچھی ہوتی گئی۔حتی کہ کھانا پینا، چلنا پھرنا شروع کر دیا۔ایک دن میں نے ذکر کیا کہ حضرت صاحب نے ڈلہوزی سے خاکسار کو تحریر فرمایا ہے کہ تم بھی ڈلہوزی نہیں آئے اب کی بار ڈلہوزی آؤ۔تو والد صاحب نے خوب شوق سے فرمایا۔اچھی بات اس دفعہ ڈلہوزی چلیں گے۔والدہ صاحبہ نے مسکرا کر کہا۔آپ کی صحت کی تو یہ حالت ہے اور ڈلہوزی کے ارادے کر رہے ہیں۔والد صاحب نے فرمایا۔کیا معلوم اللہ تعالیٰ شفا دیدے۔آخر اگست میں پھر والد صاحب کے پھیپھڑے پر بوجھ پڑنا شروع ہو گیا۔جس سے معلوم ہوا کہ پھر پانی جمع ہورہا ہے۔طبی مشورہ یہ تھا کہ پانی نکالنا چاہئے۔والد صاحب اس دفعہ پانی نکلوانے سے کچھ گھبراتے تھے۔خاکسار نے والدہ صاحبہ سے مشورہ کیا۔انہوں نے فرمایا کہ اگر ڈاکٹروں کی رائے میں یہی علاج ہے تو پھر چارہ نہیں۔چنانچہ والد صاحب بھی رضا مند ہو گئے اور ۲۹ اگست اتوار کے دن دوبارہ نکالا گیا۔اس دوران میں والدہ صاحبہ بوجہ ڈاکٹر صاحبان کی موجودگی کے اُس کمرہ میں نہیں تھیں۔جہاں والد صاحب کا پلنگ تھا کسی دوسرے کمرے میں سجدہ میں پڑی ہوئی دعا کر رہی تھیں۔جب ڈاکٹر صاحبان ساتھ والے کمرہ میں چلے گئے۔تو خاکسار نے والدہ صاحبہ کو اطلاع کی اور وہ والد صاحب والے کمرہ میں تشریف لے آئیں اور اس طرح انہوں نے ڈاکٹر صاحبان کو دوسرے کمرہ سے باہر جاتے ہوئے دیکھ لیا۔انہیں دیکھ کر وہ کچھ گھبرا گئیں اور الگ مجھ سے کہا کہ اللہ تعالیٰ خیر کرے۔