میری والدہ

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 28 of 102

میری والدہ — Page 28

۲۸ کوئی حکم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یا حضور کے وصال کے بعد حضرت خلیفہ اسی اول رضی اللہ عنہ یا اُن کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کا اُن تک پہنچ جاتا۔وہ فورا مستعدی سے اس پر عمل پیرا ہو جاتیں۔اُن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے طبیعت بالکل جادہ تسلیم و رضا پر چلنے والی عطا فرمائی تھی۔اُن کی طبیعت میں ان امور کے متعلق چون و چرا پیدا ہوتا ہی نہیں تھا۔والد صاحب کا قبول احمدیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے سیالکوٹ تشریف آوری کیے وقت تک والد صاحب کی طبیعت بھی بہت حد تک احمدیت کی طرف راغب ہو چکی تھی اور وہ سمجھتے تھے کہ اب آخری فیصلہ کا وقت آ پہنچا ہے۔ان دنوں اُن کی صحبت بہت حد تک چوہدری محمد امین صاحب کے ساتھ رہا کرتی تھی اور وہ خواہش رکھتے تھے کہ چوہدری محمد امین صاحب اور وہ اکٹھے فیصلہ کریں۔جب والد صاحب نے چوہدری محمد امین صاحب کے ساتھ مشورہ کیا۔تو چوہدری صاحب نے فرمایا کہ میرے دل میں کچھ شکوک ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ انہیں صاف کیا جائے۔چنانچہ حضرت خلیفہ ابیج اول رضی اللہ عنہ کے ساتھ طے ہوا کہ یہ دونوں مغرب کے بعد حضور کی خدمت میں حاضر ہو جایا کریں اور چوہدری محمد امین صاحب اپنے شکوک اور اعتراضات صاف کرلیں۔خاکسار بھی مغرب کے بعد اس مختصہ مجلس میں والد صاحب کے ہمراہ حاضر ہوا کرتا تھا۔تین چار دن کے بعد چوہدری محمد امین صاحب نے والد صاحب کے پاس تسلیم کیا کہ اُن کے اعتراضات کا جواب تو مل گیا ہے چنانچہ والد صاحب نے فرمایا کہ پھر کل بیعت کر لیں گے۔لیکن دوسری صبح جب والد صاحب چوہدری محمد امین صاحب کے مکان پر پہنچے اور اُن سے کہا کہ حضرت اقدس کی خدمت میں بیعت کے