میری والدہ — Page 11
H صاحب نے بھی اصرار کیا کہ آخرانی کونسی سی پڑی بات ہے۔چند روپوں کا معاملہ ہے۔جو کچھ یہ مانگتی ہے۔اسے دے دو اور اگر تمہیں کوئی عذر ہے۔تو ہم دے دیتے۔ہیں۔والدہ صاحبہ نے جواب دیا کہ یہ چند روپوں کا معاملہ نہیں۔یہ میرے ایمان کا امتحان ہے۔کیا میں یہ تسلیم کرلوں کہ میرے بچے کی زندگی اس عورت کے اختیار میں ہے؟ یہ تو کھلا شرک ہے۔اگر میرے بچے کواللہ تعالی زندگی دیگا تو یہ زندہ رہے گا اور اگر وہ اسے زندگی عطا نہیں کریگا۔تو کوئی اور ہستی اسے زندہ نہیں رکھ سکتی۔میں تو اپنے ایمان کو شک میں ہرگز نہیں ڈالوں گی۔بچہ زندہ رہے یا نہ رہے۔دو چار روز بعد والدہ صاحبہ نے خواب نہیں دیکھا کہ اُن کے گاؤں کی ایک عورت شکایت کر رہی ہے کہ اس کے بچے کا کلیجہ جے دیوی نے نکال لیا اور کسی نے اُس سے باز پرس نہیں کی۔اگر کسی صاحب اقتدار کے ساتھ ایسا سلوک ہوتا۔تو وہ جے دیوی کو ذلیل کر کے گاؤں سے نکال دیتے۔والدہ صاحبہ نے خواب میں ہی جواب دیا کہ موت اور حیات تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔جے دیوی کا اس میں کچھ واسطہ نہیں۔میرے بچہ کے ساتھ بھی تو بظاہر ایسا ہی واقعہ ہو اتھا۔لیکن ہم نے تو جے دیوی کو کچھ نہیں کہا۔والدہ صاحبہ فرمایا کرتی تھیں کہ میرا یہ کہنا ہی تھا کہ خواب میں میں نے دیکھا کہ گویا ایک طرف کوئی کھڑ کی کھولی گئی ہے اور اُس میں سے جے دیوی کا چہرہ نظر آیا اور مجھے مخاطب کر کے جے دیوی نے کہا۔"اچھا اب کی بار بھی اگر بچے کو زندہ واپس لے گئیں۔تو مجھے کھتری کی بیٹی نہ کہنا۔چوہڑے کی بیٹی کہنا۔والدہ صاحبہ کی دہشت سے آنکھ کھل گئی۔دیکھا کہ چراغ گل ہو چکا ہے۔والدہ صاحبہ کی عادت تھی کہ وہ اپنے سونے کے کمرے میں ضرور روشنی رکھا کرتی تھیں اور فرمایا کرتی تھیں کہ جب بھی خواب میں جے دیوی نظر آیا کرتی تھی۔تو آنکھ کھلنے پر ہمیشہ کمرہ اندھیرا ہو اکرتا تھا۔چنانچہ والدہ صاحبہ نے میری نانی صاحبہ کو آواز دی۔جو