میری والدہ — Page 91
۹۱ صاحبہ کی خدمت میں عرض کی قادیان آ گیا ہے۔فرمایا: بسم الله بسم الله پھر میں نے کہا۔آپ کی کوٹھی لے چلیں؟ فرمایا ہاں۔اپنی کوٹھی میں لے چلو۔بیت الظفر ، پہنچ کر آپ کا پلنگ نچلی منزل میں گول کمرہ میں بچھایا گیا۔میں نے عرض کی۔آپ نے مکان پہچان لیا؟ فرمایا ہاں۔پھر میں نے کہا۔آپ کا پلنگ نچلی منزل میں ہی گول کمرہ میں ہے۔اس پر نظر اٹھا کر کمرہ کی دیواروں کو دیکھا اور " فرمایا۔میں نے پہچان لیا ہے۔اب روح کو اطمینان ہو گیا کہ خدا کے مسیح کی تخت گاہ تک پہنچنے کی مہلت مل گئی اور کوئی اور خواہش باقی نہ رہی۔وفات عصر کے وقت ڈسکہ سے کفن کی چادریں بھی پہنچ گئیں۔وہی جو چودہ سال قبل زمزم کے پانی میں دھوئی گئی تھیں۔پھر رات آئی اور کیسی رات۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ کسی روحانی شاہزادی نے ہمارے گھر کو ایک رات کے لئے اپنا قیام گاہ تجویز کر کے اسے نور سے بھر دیا ہے اور ہر لحظہ یہاں فرشتے نازل ہو رہے ہیں۔نصب شب کے قریب جب بظاہر کئی گھنٹوں سے بے ہوشی کا عالم تھا۔کسی نے مجھ سے کہا تم بلاؤ تو شاید جواب دیں۔ہم نے تو بلایا ہے کوئی جواب نہیں دیتیں۔میں نے بلایا تو جواب دیا۔ہاں! تین بجے کے قریب جب تہجد کے وقت ہوا۔تو کامل بیہوشی کی حالت ہو گئی۔محض سانس آتا تھا۔گویا اپنے رویا کے مطابق پالکی میں سوار ہونے اور سفر شروع کر کے لئے تیار ہو گئی تھیں۔صبح ساڑھے سات بجے کے قریب میں نے والدہ امتہ الحی سے کہا کہ سب لوگ ناشتہ کر لیں۔کیونکہ ان کا عہد ہے کہ بچے ناشتہ کر لیں گے۔تو روانہ ہوگی۔پھر