میری والدہ — Page 62
۶۲ اور میں نے یہ بھی دعا کی کہ میرے بیٹے عبداللہ خاں اور اسد اللہ خاں قصور اور لاہور سے جلد پہنچ جائیں۔(خاکساران دنوں انگلستان میں تھا) نماز سے ابھی فارغ ہوئی تھی کہ عبداللہ خاں اور اسد اللہ خاں موٹر میں پہنچ گئے۔مجھے دیکھتے ہی انہوں نے دریافت کیا۔آپ اس قدر افسردہ کیوں ہیں؟ میں نے تمام ماجرا اُن سے کہدیا اور کہا تم دونوں اس معاملہ میں میری مدد کرو۔انہوں نے کہا جیسے آپ کا ارشاد ہو۔چنانچہ ساہوکار آیا اور والدہ صاحبہ نے اُس کے ساتھ مقروض کے حساب کا تصفیہ کیا۔ساہوکار نے بہت کچھ حیل و حجت کی۔لیکن والدہ صاحبہ نے اصل رقم پر ہی فیصلہ کیا اور پھر ساہوکار سے کہا کہ یہ رقم میں خود ادا کروں گی۔تم فورا اس کے مویشی واپس لا کر اس کے حوالہ کرو۔پھر تصفیہ شدہ رقم یوں فراہم کی کہ جس قدر اپنے پاس روپیہ موجود تھا۔وہ دیا اور باقی اپنے بیٹوں کو حکم دیا کہ وہ پیش کریں۔جب مویشی کسان کو واپس مل گئے۔تو اُس کے بیٹے سے کہا جاؤ اب جا کر اپنی کچھڑی پکڑ لو۔اب کوئی تم سے نہیں لے سکتا۔پھر اپنے بیٹوں کو دعائیں دیں کہ تم نے میرا غم دور کیا۔اب میں چین کی نیند سو سکوں گی۔سلسلہ کے متعلق غیرت لیکن ان واقعات سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ والدہ صاحبہ کو سلسلہ کے متعلق غیرت نہ تھی خلاف حقیقت ہو گا۔سلسلہ کے متعلق انہیں انتہاء درجہ کی غیرت تھی اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ، سلسلہ احمدیہ، خاندان نبوت اور بزرگانِ سلسلہ کے متعلق کسی قسم کی گستاخی یا ناروا حرکت برداشت نہ کر سکتی تھیں۔مجھے خوب یاد ہے کہ جس زمانہ میں والد صاحب سلسلہ میں داخل ہوئے۔انہیں مثنوی مولانا روم سے بہت دلچسپی تھی اور فرصت کے وقت ایک صاحب کے ساتھ جو بظاہر صوفیانہ اور فقیرانہ طرز رکھتے تھے مثنوی پڑھا کرتے تھے۔ایک دفعہ یہ