میری والدہ — Page 39
۳۹ چنانچہ 1916ء میں انہوں نے دارالامان کی رہائش اختیار کر لی اور حضرت خلیفہ سیح نے نظارت اعلیٰ کے فرائض اُن کے سپر د کئے۔علاوہ اس کے مقبرہ بہشتی کا صیغہ بھی اُن کے سپرد تھا اور اپنا فارغ وقت وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا انڈکس تیار کرنے میں صرف کیا کرتے تھے۔وکالت کے زمانے میں بھی وہ صدر انجمن احمدیہ کے رُکن تھے اور صدر انجمن احمدیہ کے مشیر قانونی کے فرائض بھی سر انجام دیا کرتے تھے۔والد صاحب کے دارالامان میں رہائش اختیار کر لینے کے بعد والدہ صاحبہ کی رہائش زیادہ تر ڈسکہ میں رہا کرتی تھی۔بھی بھی قادیان بھی تشریف لے جایا کرتی تھیں۔لیکن بیک وقت قادیان میں ان کا قیام مہینہ دو مہینہ سے زائد نہیں ہوا کرتا تھا۔بعض اوقات خاکسار کے پاس لاہور تشریف فرما ہو اکرتی تھیں۔لیکن وہاں بھی اُن کا قیام ایک وقت میں چند دن یا چند ہفتے ہی ہوا کرتا تھا۔والد صاحب اور والدہ صاحبہ کا حج کرنا ۱۹۲۴ء کی گرمیوں میں والد صاحب اور والدہ صاحبہ دونوں حج کے لئے تشریف لے گئے۔والد صاحب کی طبیعت تو سمندر میں تلاطم ہونے کی وجہ سے دورانِ سفر میں اکثر حصہ علیل رہی۔لیکن والدہ صاحبہ فرمایا کرتی تھیں کہ انہیں سمندر کا سفر بہت پسند آیا اور اُن کی صحت سفر کے دوران میں نہایت عمدہ رہی۔والدہ صاحبہ حج کو جاتے ہوئے اپنے لئے او والا احب کے لئے کفن کی چادر میں تیار کر کے ساتھ لے گئی تھیں اور حج کے ایام میں ان چادروں کو زمزم کے پانی میں دھو کر حفاظت سے رکھ لیا تھا تا کہ وقت آنے پر استعمال میں لائی جائیں۔حج سے واپس آنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے والد صاحب کو دو سال اور زندگی عطا فرمائی۔اگست ۱۹۲۵ء میں والد صاحب اور والدہ صاحبہ خاکسار کے ہمراہ کشمیر جانے