میری والدہ

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 18 of 102

میری والدہ — Page 18

IA ماتم پرسی کے لئے آنے پر ایک کہرام مچ جایا کرتا تھا اور بہت واویلا ہو ا کرتا تھا اور جس گاؤں میں ماتم ہو ا کرتا تھا۔وہاں کی عورتیں ان قافلوں کی آمد پر اپنے مکانوں کی چھتوں پر سے ان کا واویلا سنا کرتی تھیں۔چنانچہ اس موقعہ پر بھی جب ہمارے خاندان کی عورتیں ہماری پھوپھی صاحبہ کے گاؤں کے قریب پہنچیں۔تو انہوں نے دیکھا کہ گاؤں کی عورتیں اس انتظار میں اپنے مکانوں کی چھتوں پر بیٹھی ہیں کہ اُن کا واویلا سنیں۔والدہ صاحبہ نے اپنی ہمراہی عورتوں سے درخواست کی کہ وہ مطلق واویلا نہ کریں اور بالکل خامشی سے پھوپھی صاحبہ کے مکان پر پہنچ جا ئیں۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔لیکن جب وہ گلی میں داخل ہوئیں۔تو ارد گرد کے مکانوں کی چھتوں پر جمع شدہ عورتوں میں سے بعض نے انہیں طنز کرنے شروع کئے اور کہا: بی بیو ہنستی ہوئی چلی جاؤ“۔والدہ صاحبہ اور ان کی ساتھ کی عورتوں نے صبر ہے یہ سب کچھ سنا اور برداشت کیا اور خاموشی سے پھوپھی صاحبہ کے مکان کے اندر داخل ہو گئیں۔وہاں پہنچ کر بھی والدہ صاحبہ نے کسی رسم یا کسی قسم کی جزع فزع میں حصہ نہیں لیا اور اس امتحان میں اللہ تعالیٰ نے انہیں پورا اترنے کی توفیق عطا فرمائی۔اس کے بعد والدہ صاحبہ اللہ تعالٰی کے فضل سے پوری مضبوطی سے اپنے عہد پر قائم رہیں۔یہ زمانہ والدہ صاحبہ کا احمدیت سے پہلے کا زمانہ تھا۔اس زمانے میں والدہ صاحبہ کو خواب اور رویا میں اکثر دادا صاحب ہی نظر آیا کرتے تھے اور انہی کے ذریعہ اُن کی روحانی اور اخلاقی تربیت ہوئی تھی اور زیادہ تر ان ہی کے ذریعہ بشارات حاصل ہوتی تھیں۔چنانچہ ۱۹۰۳ ء کا ذکر ہے کہ والدہ صاحبہ نے دادا صاحب کو خواب میں دیکھا اور اُن سے کہا کہ میرے پاس یہ ایک روپیہ داغدار ہے اسے بدل دیجئے۔انہوں نے وہ