میری والدہ — Page 12
کی کمرہ میں ہورہی تھیں۔انہوں نے چراغ روشن کیا اور روشنی ہونے پر والدہ صاحبہ نے دیکھا کہ رفیق نے خون کی قے کی ہے اور ساتھ ہی اسے خون کی اجابت بھی ہوئی ہے اور نیم مردہ سا ہو گیا ہے۔چنانچہ یہ بہت گھبرا نہیں۔اس خیال سے کہ اس کے دادا تو اسے آنے ہی نہیں دیتے تھے اور اب اگر ظفر کی طرح یہ بھی یہیں فوت ہو گیا۔تو میرا تو ڈسکہ میں کوئی ٹھکانا نہیں۔چنانچہ انہوں نے اصرار کیا کہ ابھی سواری کا انتظام کیا جائے۔میں فوراً بچہ کو لے کر ڈسکہ جاتی ہوں۔سحری کا وقت تھا۔فوراً دو سواریوں کا انتظام کیا گیا اور والدہ صاحبہ اور نانی صاحبہ دو خادموں کے ساتھ رفیق کو اسی حالت میں لے کر دا تا زید کا سے روانہ ہو گئیں۔جب کچھ روشنی ہونی شروع ہوئی تو والدہ صاحب نے دیکھا کہ رفیق بالکل مردہ سا ہو رہا ہے اور بظا ہر زندگی کے آثار باقی نہیں ہیں۔فرمایا کرتی تھیں کہ میں نے سمجھ لیا کہ اس کی موت کا وقت آچکا ہے۔لیکن ساتھ ہی مجھے یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ قضاء کو بھی ٹال دینے پر قادر ہے۔چنانچہ میں نے گھوڑے کی باگ اُس کی گردن پر ڈال دی اور دونوں ہاتھ اُٹھا کر دعا شروع کی کہ یا اللہ تو جانتا ہے کہ مجھے اس بچے کی جان کی فکر نہیں اگر تیری رضا اس کو بلا لینے میں ہی ہے تو میں تیری رضا کو خوشی سے قبول کرتی ہوں لیکن مجھے اپنی آبرو کی فکر ہے۔اگر یہ بچہ آج فوت ہو گیا تو میرا ڈسکہ میں کوئی ٹھکانا نہیں۔اے ارحم الراحمین تو ہی زندگی موت کا مالک ہے۔تو میری زاری کوئن اور اس بچہ کو دس دن کی اور مہلت عطا فرما، تا اس کے دادا اُسے ہنستا کھیلتا دیکھ لیں۔دس دن کے بعد پھر تو اسے بلا لیجیو، میں اس کی وفات پر اُف بھی نہ کرونگی۔فرمایا کرتی تھیں کہ مجھے معلوم نہیں کہ کتنا عرصہ میں نے یوں دعا کی۔لیکن میں ابھی دعا ہی کر رہی تھی کہ رفیق نے میرے دوپٹے کو کھینچا اور تندرستی کی آواز میں مجھے پکارا ” بے بئے اور میں نے دیکھا کہ وہ بالکل تندرست حالت میں میری گود میں