میری پونجی

by Other Authors

Page 29 of 340

میری پونجی — Page 29

حضرت سر دار صاحب کی سیالکوٹ آمد سردار صاحب نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں میں حاصل کی۔اسکول کی مزید تعلیم حاصل کرنے کیلئے گاؤں میں کوئی مدرسہ نہیں تھا لیکن تعلیم کا بہت شوق تھا، یہی شوق انہیں سیالکوٹ شہر لے آیا۔بچپن سے چونکہ نماز اور عبادت کی عادت تھی سیالکوٹ آکر بھی انہیں کسی مسجد کی تلاش ہوئی اور یہی تلاش انہیں کبوتروں والی مسجد میں لے آئی۔جہاں اس مسجد کے امام حضرت مولوی فیض الدین صاحب سیالکوٹی تقوی شعار اور مرنجاں مرنج بزرگ تھے۔ان کے آباؤ اجداد بلاد عرب سے تھے۔حافظ قرآن تھے ، عربی ، فارسی اور حدیث پر بھی عبور رکھتے تھے۔بہت شفیق انسان تھے۔حضرت مولوی صاحب کی خاص نظر اس نیک خصلت نو وارد نوجوان پر پڑی تو اسکے اخلاص کو دیکھ کر اُس کی دیکھ بھال اور تربیت کو اپنی نگرانی میں لے لیا۔اس طرح اُن کا ہمہ وقت حضرت مولوی صاحب کی صحبت میں گزرنے لگا۔جنہوں نے انکی سعادت مندی اور دینی شغف کو دیکھتے ہوئے اپنا شاگرد رشید بنالیا۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایسا وسیلہ پیدا کر دیا کہ انکی صحبت میں رہ کر جہاں دینی اسباق سیکھنے لگے وہاں وہ اسکے ساتھ ساتھ روحانی فیض بھی پانے لگے۔دیکھتے ہی دیکھتے انکی سعادت مندی اس رنگ میں بھی اللہ تعالیٰ کا فضل سمیٹنے کا موجب بن گئی کہ اُنہوں نے حضرت مولوی صاحب کی صحبت میں رہ کر حضرت امام مہدی کے ظہور کی اطلاع پالی۔اس طرح حضرت سردار صاحب سید نا حضرت اقدس میرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کے دعوئی ماموریت پر ایمان لے آئے۔جب آپکو یہ علم ہوا کہ حضرت اقدس امام مہدی نہ صرف یہ کہ پانچ سال کا عرصہ سیالکوٹ میں تشریف فرما ر ہے بلکہ بعد میں بھی متعدد بار تشریف لاتے رہے تو دل پر بے حد اثر ہوا کہ کاش مجھے بھی خبر ہوتی اور شہر میں ہوتا اور حضرت اقدس امام مہدی کے روئے منور کو دیکھ پاتا۔یہ حسرت انکے دل میں ہمیشہ ایک خلش بن کر چھتی رہی۔(29)