میری پونجی

by Other Authors

Page 286 of 340

میری پونجی — Page 286

متعلق کچھ ذکر ہورہاتھا کہ ٹھنڈی سانس بھر کے مجھ سے کہا: د منصور ! اے دن اُدے جان دے نہیں سی۔“ ( یہ وقت اُن کے جانے کا نہ تھا) پھر والدہ خالد کی وفات نے تو رہی سہی ہمت بھی ختم کر دی اور وہ بتدریج خاموش ہوتے چلے گئے۔مگر اس دوران بھی خدمت دین کو پیش نظر رکھا اور الفضل انٹرنیشنل کی ڈسپیچ ٹیم کے سرگرم رکن رہے۔یہ سلسلہ اُن کی وفات سے چند ماہ قبل تک جاری رہا۔قسمت بھی انسان سے بعض اوقات عجیب مذاق کرتی ہے۔ہوا یہ کہ اُن کی آخری بیماری میں خاکسار حتی الوسع عیادت کرتا رہا۔بلکہ ۵ فروری بروز بدھ ظہر کی نماز سے قبل میں نے بذریعہ فون خالد صاحب سے رابطہ قائم کیا اور حال دریافت کیا۔اُنہوں نے نہایت افسردگی سے اپنے ابا کی آخری سانسوں کے بارے میں اطلاع دی۔خاکسار حوصلہ افزائی کی سعی کرتا رہا۔اُسی روز شام کے سات بجے میرا اپنا سانس اچانک اُکھڑنا شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے خاکسار غش کھا کر گر گیا۔ہسپتال پہنچایا گیا۔یہ وہی ہسپتال تھا، جہاں ہمارے بھائی جی آخری سانسیں لے کر شام کے نو بجے خالق حقیقی سے جاملے تھے۔مجھے جب ہوش آیا تو رات کے نو بج چکے تھے۔اگلے بارہ چودہ گھنٹے ICU ہی میں گزارے۔اُس کے بعد ہسپتال والوں نے مجھے جس وارڈ میں بھجوایا ، یہ وہی وارڈ تھا جہاں ہمارے بھائی جی نے آخری سفر اختیار کیا تھا۔وائے حسرت! کہ جس پیاری ہستی کے ساتھ کئی سال گزرے تھے باوجود ” قرب مکانی“ کے مجھے جنازے کی توفیق نہ ملی اور اب یہ حسرت مدام بن چکی ہے۔صرف اسی پر اکتفانہ ہوا بلکہ ہسپتال میں مجھے ایک Male nurse دوا دے رہے۔،Male تھے کہ اُن کا ایک اور کارکن ہاتھ میں تین جوس کے ڈبے تھامے ہوئے آ گیا تو Male nurse نے اُس سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ تو اُس کا رکن نے جواب دیا کہ یہ مسٹر محمد کیلئے ہیں تو اُس نے کہا یہ مریض تو مسٹر احمد ہے محمد نہیں ہے۔تو کارکن نے پھر کہا کہ مسٹر محمد حسن کے ہیں اور اُن کیلئے لایا ہوں۔تب Male (286)