میری پونجی

by Other Authors

Page 142 of 340

میری پونجی — Page 142

جو زاد راہ تھی وہ بھی کم سے کم ہوتی جارہی تھی۔لیکن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کبھی اُس کی طاقت سے زیادہ آزمائش میں نہیں ڈالتا اور کبھی تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو انسانوں کے روپ میں مدد کے لیے بھی بھیج دیتا ہے۔ایسا ہی سامی صاحب کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ کا سلوک ہوا۔کہتے ہیں کہ جب میں تین چار ماہ کی مسافت سے شدید تھکا ہوا رہائش اور مالی مشکلات میں پھنسا ہوا تھا اللہ تعالیٰ کے آگے مسجد میں سجدہ ریز تھا اپنے پیارے رب سے التجا کے بعد سلام پھیرا تو حیران رہ گیا کہ ایک ایسا چہرہ نظر آیا جس کا میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔اُن کو دیکھ کر پہلے تو مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا۔جب غور سے دیکھا تو میرا دل اُچھل کر میرے حلق تک آگیا اور میں دھیرے سے اُٹھا اور اُن کے سامنے کھڑا ہو گیا۔پہلے تو انہوں نے مجھے پہچانا نہیں کیونکہ میں سفروں کا تھکا ہوا تھکن اور پریشانی کا مارا ہوا تھا۔ویسے بھی اس سے پہلے میری بہت کم ملاقات ہوئی تھی۔میں نے سلام دعا کے بعد اپنا تعارف کروایا، اُنہوں نے پہچان کر گلے لگایا اور خیریت پوچھی اور کہا تم یہاں کیسے؟ میں تو پہلے ہی ڈھونڈ رہا تھا کہ مجھے کوئی تنکے کا سہارا ملے اور یہ میرے لیے شہتیر تھے۔یہ تھے میرے خالہ زاد بھائی چوہدری سمیع اللہ صاحب شفا میڈیکو والے۔اُن کے بہت بڑے بڑے بزنس تھے ساری دنیا میں وہ آسانی سے سفر کر سکتے تھے۔سامی صاحب کہتے ہیں کہ میری ساری بات چیت سُن کر کہا کہ بتاؤ میں تمہارے لیے کیا کر سکتا ہوں؟ میں نے جواب دیا آپ بتائیں ؟ میں کیا کروں میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں کہاں سے شروع کروں۔سامی کہتے ہیں کہ اُن کا جواب سُن کر میرا دل اندر سے اُچھل پڑا۔بھائی جان نے کہا میں تمہیں لندن لے جاتا ہوں۔میں تو اُن کا منہ دیکھتا رہ گیا کہ اتنی بڑی بات جو میں دل سے چاہتا تھا مگر میری سوچ سے بھی باہر تھا میں نے جواب دیا اگر بھائی جان یہ ممکن ہو تو میرے لیے بہت بہتر ہے۔بھائی جان نے کہا ہے تو بہت مشکل مگر میں آج ہی شام لندن جا رہا ہوں تم تیار ہو جاؤ اور میرے ساتھ چلو۔دل میں میں نے سوچا میں نے کیا تیار ہونا ہے میں تو اُن سے بھی پہلے تیار ہو کر اُن کی انتظار میں بیٹھ گیا۔میں اپنے (142)