میری پونجی — Page 135
سپاس نامه 1960ء میں کراچی کا ایر ہیڈ کوارٹر پشاور منتقل ہو گیا۔کراچی کی جماعت نے آپ کی خدمات کو انتہائی قابل قدر انداز میں سراہا اور دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا۔سامی صاحب کو 1960ء میں کراچی سے الوداع کہتے ہوئے خدام الاحمدیہ کی طرف سے پیش کردہ سپاس نامہ پیش خدمت ہے : بسم الله الرحمن الرحيم نحمده وَنُصَلّى عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ وعلى عبده المسيح الموعود صاحب صدر و معزز حضرات! السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاته آج ہم اپنے ایک ایسے بھائی کو الوداع کہنے کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں جسے اس کے بھائی نے پہلی دفعہ کراچی آتے وقت یہ نصیحت کی تھی کہ اس شہر میں جا کر تم مجلس کی سرگرمیوں میں ضرور حصہ لینا لیکن اس نے اپنے بھائی کو یہ کہ کر خاموش کر دیا تھا کہ میں تو وہاں سب سے پچھلی صف میں بیٹھنے والوں میں سے ہوں گا اور کوئی بھی مجھے نہ تو جاننے والا ہوگا اور نہ ہی مجلس کے کاموں میں شریک ہونے کی تلقین کرنے والا ہو گا۔اور آج ہم اس موقع پر جبکہ وہ ہم سے ایک غیر معین عرصہ کیلئے جدا ہو رہا ہے ماضی کے آٹھ سالوں پر نظر ڈالتے ہیں تو ہم یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتے کہ گو وہ ہمیشہ پچھلی صف میں ہی بیٹھنے کی کوشش کرتا رہا لیکن خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے نہ صرف یہ کہ خود اُسے خدمت احمدیت کی توفیق بخشی بلکہ وہ متعد د خدام کو مجلس کی پہلی صفوں میں لانے کا موجب بھی بنا۔ایک منتظم، معتمد حلقہ، نائب ناظم مال اور نائب معتمد کی ذمہ داریاں علی الترتیب سرانجام دینے کے بعد نومبر ۱۹۵۴ء میں محترم بشیر الدین احمد صاحب سامی مجلس خدام الاحمدیہ کراچی کے معتمد مقرر (135)