میری پونجی

by Other Authors

Page 123 of 340

میری پونجی — Page 123

اپنی پوری کوشش کی ہے کہ ان تمام معاملات کا کوئی حل نکل آئے۔لیکن اُن زمینوں کیلئے بہت بھاگ دوڑ کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے، اگر مل جائے تو الحمد للہ۔اس دنیا وی دولت کو ٹھکرا کر اماں جی اور ابا جی نے دین کی دولت کمائی یہی ہمارے لیے کافی ہے۔اللہ کرے کہ اُن کی پوری نسل اس دولت کی حفاظت کر سکے اور اپنے سینوں پر اسی کے میڈل لگائے رکھیں۔اس کتاب کے چھپنے سے پہلے جب کہ بھائی جان ناصر سامی ہسپتال میں شدید بیمار تھے تو سیالکوٹ سے وکیل کا فون آیا کہ ناصر صاحب آپکو مبارک ہو آپ کے حصے کی زمینوں کا فیصلہ آپ لوگوں کے حق میں ہو گیا ہے اور اب آپ آئیں اور دستخط وغیرہ کا جو کام ہے وہ کر لیں۔اپنی ہوش میں یہ خوش خبری تو سن لی کہ کھوئی ہوئی جائداد واپس مل گئی ہے، مگر اس کی اللہ تعالیٰ نے مہلت نہیں دی کہ جا کر وہ جائداد اپنے نام کروا سکتے کیونکہ دو دن کے بعد بھائی جان اللہ تعالیٰ کے پاس چلے گئے۔اس طرح یہ زمینوں کا قصہ ، قصہ پارینہ بن گیا۔جو چیز بڑوں نے اللہ تعالیٰ کے نام پر چھوڑ دی تھی وہ کیسے مل سکتی ہے) ( صفیہ بشیر ساقی) (123)