میری پونجی

by Other Authors

Page 122 of 340

میری پونجی — Page 122

مشتمل سیالکوٹ سے آیا ہوں اور میں ایک پٹواری ہوں اور آپ کی زمینوں کے بارے میں آپ کو یہ بتانے آیا ہوں کے آپ کے خاندان کی زمینیں جو تقریباً 60 کنال پر مش ہیں اور دو کنال کا گھر ہے جس پر آپ کے چچا کے بیٹوں نے قبضہ کیا ہوا ہے ، اُن میں آپ کا بھی حصہ ہے۔میں نے بڑی مشکلوں سے آپ کو ڈھونڈا ہے۔چونکہ آپ کے والد صاحب پانچ بھائی تھے، اس لیے بارہ بارہ کنال آپ سب کے حصہ میں ہیں اور اس طرح گھر میں بھی آپ حصہ دار ہیں۔ساتھ وہ سارے کاغذات بھی لیکر آئے تھے جو اُس زمین کے ساتھ تعلق رکھتے تھے۔تقریباً سو سال سے زیادہ عرصہ کے بعد وہ انکشاف بہت بڑا تھا، یہ کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ ہماری بھی کوئی زمینیں ہیں۔تایا کے بیٹوں کے ساتھ تعلقات اچھے تھے مگر انہوں نے کبھی اس بات کا اظہار نہیں ہونے دیا کہ ہمارے پاس کوئی زمینیں بھی ہیں۔سب سے بڑی بات یہ کہ اماں جی اور اباجی نے احمدیت قبول کر کے سب کچھ دین کی راہ میں قربان کر دیا اور بھول گئے کہ ہمارے پیچھے بھی کچھ ہے۔ساری زندگی انتہائی غربت میں گزاردی، نہ خود پیچھے مُڑ کر دیکھا اور نہ بچوں کو کسی آس میں رکھا۔چاہتے تو بہت خوش حال زندگی گزار سکتے تھے مگر دینی غیرت کی بھی انتہا تھی ، دین کو دنیا پر مقدم رکھا۔اللہ تعالیٰ ان بزرگوں کے درجے بلند سے بلند تر کرتا چلا جائے۔آمین۔“ اُس غیر احمدی پٹواری کے کہنے پر میرے جیٹھ ناصر بھائی جان وہاں گئے۔اپنے آبا ؤ اجداد کا گھر بھی دیکھا اور زمینیں بھی۔ظاہر ہے خوشی تو بہت ہوئی واپس آکر ہم سب کو بتا یا۔پھر اُس پٹواری کے کہنے پر اپنی زمینوں کا حصہ اپنے تایا زاد بھائیوں سے لینے کا مطالبہ کیا تو انہوں نے کورٹ میں یہ کہہ دیا کہ یہ سب احمدی ہیں اس لیے ان کا کوئی حصہ نہیں بنتا۔میرے جیٹھ ناصر بھائی جان کافی عمر رسیدہ ہیں اور بہت بیمار بھی ہیں، ان زمینوں کیلئے بھاگ دوڑ بھی نہیں کر سکتے۔پھر بھی بھائی جان نے (122)