میری پونجی

by Other Authors

Page 100 of 340

میری پونجی — Page 100

اور اباجی کی دعاؤں سے ہی حل ہوئے۔کئی معجزے ہوتے اپنی آنکھوں سے دیکھے۔میرے ایک چچا ناصر ساقی مری میں مقیم تھے۔اکثر گرمیوں میں ساری فیملی مری چھٹیاں گزار نے چلی جاتی تھی۔اس دفعہ بھی ایسے ہی ہوا۔میں اپنے سسرال میں تھی۔ابا جی کو بہت مشکل لگ رہا تھا کہ میں وہاں نہیں ہوں۔مجھے چنیوٹ سے لاہور لینے آئے اور میں دونوں بچوں کے ساتھ سردی اور گرمیوں کے سارے کپڑے رکھے اور مری چلے گئے۔چھٹیوں کے بعد واپسی بھی ابا جی کے ساتھ ہی تھی کہ میں نے چنیوٹ ہی جانا تھا مری سے۔جب پنڈی پہنچے تو دیکھا ہمارا سوٹ کیس راستہ میں کسی نے اتار لیا۔میرا زیور اور تمام سامان اُس میں تھا۔بہت پریشانی ہوئی۔اباجی نے مجھے شیخ عبدالمجید صاحب کے گھر چھوڑا اور خود اسی وقت واپس مری روانہ ہوئے کہ ہو سکتا ہے کہ وہاں ہی رہ گیا ہو۔گورنمنٹ ٹرانسپورٹ تھی ، اُس میں بھی شکایت لکھوائی۔پریشانی تو بہت تھی مگر ہم گھر آگئے۔ابا جی نے دعاؤں کی انتہا کر دی۔سجدوں میں آنسوؤں کی بارش کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک ماہ کے بعد میرا سوٹ کیس مجھے گھر آ کر کوئی دے گیا اور الحمد للہ ہر چیز محفوظ مجھے مل گئی۔یہ سب میرے بزرگوں کی دعائیں ہی تو ہیں جو ایسے معجزے ہوتے ہیں۔ابا جی کو وضو کر وانے کی بھی ہماری ڈیوٹی ہوتی کہ وہ کرسی پر بیٹھ جاتے اور ہم بالٹی میں سے پانی ڈال کر وضو کرواتے۔پانی چونکہ نچلی منزل سے تل میں سے لیکر آتے تھے، بالٹیاں بھر بھر لانا تھوڑا مشکل لگتا تھا مگر ابا جی پوری بالٹی سے وضو کرتے۔کبھی اگر ہم کہتے اباجی پوری بالٹی ابھی ہمارا جملہ بھی پورا نہ ہوتا کہ مسکرا کر دیکھ لیتے۔اب ہم بھی جان گئے تھے کہ یہ اُنکی روٹین ہی ایسی ہے جیسے کھلے پانی سے وضو کرتے ویسے کھلے دل سے اباجی نمازیں بھی بہت لمبی لمبی پڑھتے تھے۔گرمیوں میں میں اُن کو نماز پڑھتے ہوئے پنکھا ہلاتی تو کہتی ابا جی نماز تھوڑی چھوٹی پڑھا کریں۔جواب تو وہ نہ دیتے مگر ہلکا سا مسکرا کر میرے سر پر ہاتھ رکھ دیتے۔آج میں یہ کہتی ہوں تو فخر محسوس کرتی ہوں کہ ابا جی اور اماں جی کی دعائیں جی بھر کر مجھے لگی ہوئی ہیں، مجھے ہی نہیں آگے میرے بچوں کیلئے بھی اُن (100)