میری پونجی

by Other Authors

Page 329 of 340

میری پونجی — Page 329

حرف آخر میں جو اس زمین پر ایک حقیر ذرہ سے بھی کم حیثیت رکھتی ہوں ، بے حد گنہگار ، خطا کار اپنے گناہوں پر ہر وقت پشیمان ، بہت ہی معمولی ،انسان، جاہل، گنوار، ان پڑھ، عاجز ہمسکین ،فقیر، محتاج اور اپنے گناہوں پر ہر وقت خوف زدہ رہنے والی انسان ہوں مجھے حقیر ذرہ پر اُس رحمن اور رحیم نے اتنے اتنے کرم کیے ہیں جن کی میں کسی طور بھی قابل نہیں تھی۔میں اُس کے احسانوں اور مہر بانیوں کا جتنا بھی شکر کروں وہ کم ہے۔اب میں صرف اور صرف اُن احسانوں کا ہی ذکر کروں گی جو مجھ حقیر ، ناچیز پر قادر مطلق نے کیسے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے میرے لیے محبتوں کے انبار لگا دئے۔جب تک ماں کی گود میں تھی تو یقیناً امی ہر وقت میرا منہ چوم کر پیار کرتی ہوں گی۔پھر نا گہانی حالات ہوئے۔بہن کے گرنے سے میں اپنی تائی اماں کی گود میں گئی۔انہوں نے بھی اپنے پیار کی انتہا کر دی۔اُس پیار کا احساس مجھے آج بھی ہوتا ہے، اُس پیار کو میں آج بھی بہت اچھی طرح محسوس کر سکتی ہوں۔اللہ تعالیٰ اُن کو جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔آمین۔پھر اپنی امی جان اور ابا جان کے پاس آکر جو سکھ اور سکون پایا، اتنے عرصہ سے جو ماں باپ کی شفقت سے اور بہنوں اور بھائی کے پیار سے دور تھی، اُس ٹھنڈی چھاؤں میں آکر میں مسحور ہوگئی۔میری امی جان نے مجھ پر محنت کی۔میں نے جی بھر کر اُن سے پیار پایا اپنی بہنوں اور بھائی سے دل بھر کر پیار کیا۔اُن سے پیار اور محبت، عزت پائی۔ہمسائیوں اور رشتہ داروں میں کہیں تھانیدار نی اور کہیں وزیر اعظم کا خطاب پایا۔ان پیار اور محبتوں کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے وقت کا اندازہ ہی نہیں ہوا کہ کب پھر اپنوں سے جدائی کا وقت آگیا اور پیا گھر پہنچ گئی۔یہاں بھی الحمد للہ ساس سسر اور نند باقی تمام رشتوں نے دل کھول کر خوش آمدید کہا۔زیادہ عرصہ سسرال میں تو نہیں رہی لیکن جب بھی گئی یا وہ (329)