میری پونجی

by Other Authors

Page 232 of 340

میری پونجی — Page 232

ہمارا دھیان کچھ عید کے ہنگاموں سے ہٹ کر دریا کی سیر پر لگ گیا۔والد صاحب کے ساتھ پیدل ہم دریا پر پہنچے۔وہاں تو کوئی ایسی دیکھنے والی چیز نہ تھی۔ان دنوں فیروز پور در یا پر پل بن رہا تھا اور اس کے مزدورں نے مل کر عید منانے کا پروگرام بنا رکھا تھا۔ان میں سے ایک پٹھان مزدور کی نظر ہم پر پڑی تو وہ ہمارے والد صاحب کے پاس آکر اپنی ٹوٹی پھوٹی اردو میں کہنے لگا۔بابا تم ادھر کدھر بچوں کے ساتھ پھرتا ہے آج تو عید کا دن ہے؟ والد صاحب غالباً خاموش رہے۔اس پر اس نیک دل پٹھان نے کہا آؤ ہمارے ساتھ عید مناؤ ہم نے پلاؤ بنایا ہے۔وہ ہمیں اپنے ساتھ لے گیا اور ہم نے بڑے مزے لے لے کر کھانا کھایا۔جب ہم آنے لگے تو اس پٹھان نے ایک آنہ مجھے اور ایک آنہ میرے بھائی کو عیدی دی۔بچپن میں تو ہم اس لیے خوش تھے کہ ہماری عید ہوگئی لیکن آج ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو یاد کر کے خوش ہوتے ہیں کہ کس طرح اس نے جنگل میں ہماری عید کے سامان کئے۔کچھ اسی طرح کا سلوک اللہ تعالیٰ کا ہمارے غریب پرور باپ کے ساتھ تھا۔گئے تو ہم پیدل تھے لیکن واپسی کے لیے اللہ تعالیٰ نے تانگہ کے لیے رقم کا انتظام بھی فرما دیا۔وہ پٹھان کا دیا ہوا آنہ مجھے کبھی نہیں بھولتا اور بھولے بھی کیسے کہ اس میں اللہ پر توکل کرنے اور پھر اس کی ہم پر پیار کی نظر بھولنے ہی نہیں دیتی۔ایک بار خاکسار اپنے والد صاحب کے ساتھ جارہا تھا کہ راستہ میں والد صاحب کو سانپ نے ڈس لیا۔والد صاحب بہت دعا گو اور اللہ کی ذات پر پورا بھروسہ کرنے والے تھے۔سارے راستہ دعائیں پڑھ پڑھ کر پھونکتے رہے اور مجھے یاد ہے کہ حقہ کی نلکی سے جلی ہوئی راکھ بھی اس پر لگائی تھی لیکن جو دعائیں پڑھتے رہے ان میں لَا إِلَهَ إِلَّا انْتَ سُبْحَنَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّلِمِينَ اور بکثرت درود شریف شامل تھا۔الحمد للہ کہ سانپ کے کاٹے کا کوئی بھی بداثر آپ پر نہ ہوا۔ایک بار والد صاحب قادیان جانے کے لیے گاڑی میں تشریف فرما تھے کہ گاڑی چلنے سے قبل اتر آئے۔غالباً کوئی القاء ہوا ہوگا۔اس ٹرین کا لاڈ وال اور پھلوار کے درمیان ایکسیڈنٹ ہو گیا۔(232)