میری پونجی — Page 225
کپڑوں کی الماری اور دراز وغیرہ ہر جگہ چوروں کا ہاتھ لگ چکا تھا۔پھر ایک دو دن کے بعد امی جان اور گل میری بھائی گھر کی صفائی کر رہے تھے۔جب بکھرے ہوئے کپڑے اُٹھائے تو ایک دو پٹہ جس کا گولا سا بنا ہوا تھا اُس کو کھولا تو یہ وہ تھا جس میں امی جان نے گل کا اور اپنا زیور رکھا ہوا تھا۔الحمد للہ سارا زیور محفوظ مل گیا۔بہت خوشی ہوئی کہ دونوں ماں بیٹیوں کا جتنا بھی زیور تھا وہ مل گیا۔اُن دنوں حضرت خلیفہ امسیح الرابع ” نے ٹلفورڈ اسلام آباد کی زمین کیلئے چندہ کی تحریک کی ہوئی تھی۔جب زیور مل گیا تو امی جان اور گل نے اپنی رضامندی سے وہ سارا زیور اُس تحریک میں دے دیا۔اللہ تعالی اُن کی یہ نیکی قبول فرمائے۔آمین۔وہ لوگوں کی سچی ہمدرد تھیں۔گھر میں کوئی مہمان آجائے تو ان کی خوشی انتہا کو پہنچ جاتی۔ہر ایک کے غم اور خوشی میں شامل ہونا ان کی فطرت تھی ، بہت نرم دل تھیں۔کسی کی آنکھ کا آنسوان کی آنکھ کا آنسو بن جاتا۔ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کر کے راحت محسوس کرتیں۔طبیعت کی سادہ ہر قسم کے تکلفات سے پاک تھیں۔ہر کام خود اپنے ہاتھ سے کرنے کی عادی تھیں۔انسانیت کی بھلائی ہی ان کا شیوہ تھا۔ہمیشہ کوشش کرتیں کہ ان کے ہاتھ یا زبان سے کسی کوکوئی تکلیف نہ پہنچے۔بڑوں کا ادب اور چھوٹوں سے پیاران کی زندگی کا معمول رہا کبھی تو ی تم نہ کہتیں ہمیشہ سب کو آپ ہی کہتیں۔میرا بھی نام نہیں لیتی تھی مجھے بھی ہمیشہ آپ ہی کہہ کر بلاتیں۔میری امی ابا جان نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا م اپنی جوان بیٹی بشری کی وفات کا دیکھا۔یہ غم اُن کی زندگی کا بہت بڑا غم تھا۔امی نے تو پھر وہی اپنی ہمت اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہتے ہوئے برداشت کیا۔زبان سے بے شک اُف نہیں کیا لیکن راتوں کی نیندیں ختم ہو گئی تھیں۔تقریباً ہر روز جب بھی آنکھ لگتی تو بشری ہی نظر آتی۔ابا جان کی وجہ سے زیادہ غم کی بات نہیں کرتی تھیں۔مگر میرے ابا جان آسانی سے نہ برداشت کر سکے بلکہ اُن کو اس صدمہ کی وجہ سے زبان پر ہلکا سا فالج کا حملہ ہو گیا جس کی وجہ سے تقریباد و سال تک وہ اچھی طرح بات کرنے سے محروم ہو گئے۔پھر آہستہ (225)