میری پونجی

by Other Authors

Page 210 of 340

میری پونجی — Page 210

چیز پر ہمسایوں کا حق تھا۔جدھر بھی پانی کم ہوتا تو دوسرے گھر سے پانی کا گلاس مانگا جاتا۔پھر رات کو ہم نے اپنی امی جان کے ساتھ سروں پر مسئلے اٹھائے محلہ دارالرحمت سے پانی بھر بھر کر لانا شروع کر دیا۔اُس وقت بھی امی کے ہاتھ میں موٹا سا ڈنڈا ہوتا، ہر قسم کے کتوں کو ڈرانے کیلئے۔اُن دنوں دور دور تک کوئی درخت کا نام و نشان نہیں تھا، میرے چھوٹے بہن بھائی باہر کہیں سے ایک کیکر کا چھوٹا سا پودا لے کر آئے۔وہ ہمارے گھر کا پہلا پودا تھا۔اس کو ہم صبح شام اپنے وضو اور منہ دھونے والے پانی سے سیراب کرتے تھے۔ہماری ساری فیملی اس پودے کے گردگھومتی رہتی اور دیکھتی کہ کوئی نیا پتہ نکلا کہ نہیں۔غرض اب اُس پودے کے ساتھ ساتھ ہم سب بھی جوان ہو رہے تھے۔میں تو شروع دن سے ہی پڑھائی میں لکھی تھی سو اپنی امی جان کے ساتھ گھر میں ان کا سہارا ابن گئی۔میری بڑی بہن چونکہ بچپن میں گرگئی تھی اور سر میں چوٹ لگی تھی اس لیے زیادہ پڑھائی کرنی اس کے لیے مشکل تھی۔پھر بھی اس نے مڈل تک پڑھائی کی۔باقی تینوں چھوٹے ایک بھائی اور دونوں بہنیں پڑھنے والے نکلے۔گھر کے اندر باہر کے کاموں میں وہ بھی مجاہدوں کی طرح ہی ساتھ دیتے۔ہر چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی چیز اُسی دن بازار سے لے کر آتے تھے۔جب کوئی مہمان آتا فورا بازار بھاگے جاتے۔پہلے پہل تو میری بہنیں جاتیں ، پھر وہ بڑی ہوئیں تو خالد کی دوڑ لگی رہتی۔پھر سب بہنوں کی فرمائشیں بھی اُس نے پوری کرنی ہوتیں۔وہ بیچارہ ہر وقت ہمارے لیے بازاروں میں بھاگا رہتا۔ان دنوں ٹی وی وغیرہ تو ہوتا نہیں تھا۔شکر ہے گھر میں ایک چھوٹا سا بیٹری والا ریڈیو تھا جس سے خبریں سنتے تھے۔الفضل اور مصباح کے علاوہ بھی دنیا بھر کے اخبار اور رسالے ہمارے گھر آتے تھے۔خاص طور میں کیونکہ سکول نہیں جاتی تھی، کوشش کرتی کہ گھر کے کام کاج جلدی جلدی ختم کرلوں بلکہ امی جان کو اور اپنی بہنوں کو گھر کے کام نہیں کرنے دیتی تھی۔دل میں یہی خیال ہوتا کہ سارے کام میں جلدی جلدی ختم کرلوں گی تو پھر کتا بیں اور رسالے پڑھنے کی اجازت ہوگی۔ہمارا نیا گھر ہنئی جگہ اور اس زمانے کے لحاظ سے بہت بڑا صحن تھا۔کونے میں ٹائلٹ جہاں اکیلے (210)