میری پونجی — Page 211
جاتے ہوئے ڈر لگتا ، ہمیشہ امی سب کے ساتھ جاتیں اور باری باری سب کے ساتھ باہر کھڑی ہو جاتیں۔سانپ اور بچھوؤں سے ڈر، کالی پہلی آندھیوں سے ڈر ہمیں چوروں سے بھی بہت ڈر لگتا تھا۔روزانہ نئے قصے کہانیاں سنتے۔گرمیوں میں میں اپنی چار پائی سب سے آخر پر بچھاتی اور دوسرے سرے پر میری امی جان کی ہوتی درمیان میں باقی سب۔ویسے ہم سب دو دو ہی سوتے تھے۔چوروں سے ڈر بھی زیادہ گرمیوں میں ہی لگتا تھا۔ساری ساری رات باہر کی دیواروں کی طرف دیکھتے گزرتی۔دل کو بہلانے کیلئے چاندنی راتوں اور ستاروں سے باتیں ہوتیں۔ہم بہن بھائی ایک دوسرے کو بتاتے کہ بھٹی میرا کون سا ستارہ ہے۔ہر کوئی جو زیادہ چمکتا ستارہ ہوتا، اس کا مالک بن جاتا۔ہر رات کو وہ اپنا ستارہ ڈھونڈتا اس طرح سوتے جاگتے اور ستاروں سے باتیں کرتے ہماری راتیں گزرتیں۔کوئی مہمان آجاتا تو ہماری کوشش ہوتی وہ واپس نہ جائے تا کہ ہمارے گھر میں رونق ہو۔ہمارے گھر کا مرد کم سن بچہ محمد اسلم خالد تھا جس کے لیے ہر روز سونے سے پہلے رات کو ہم بہنوں کی لڑائی ہوتی کہ بھائی میرے ساتھ سوئے گا۔امی جب بھی رات کو ہمیں آواز دیتیں تو سب کو مردانہ نام سے آواز دیتیں۔ساری رات جاگ کر امی گھر میں پہرہ دیتیں۔بہادر تو اتنی تھیں کہ سانپ بچھو تو اُن کے لیے معمولی بات تھی۔شروع شروع میں تو بچھو ہر وقت نکلتے تھے سانپ بھی کئی بار نکلے، امی ان کو بے دھڑک مار دیتی تھیں۔اللہ تعالیٰ نے ہمسائے بھی بہت اچھے دئے تھے۔ایک طرف تو وہی خالہ جی سائرہ ان کی بھی چار ہی بیٹیاں تھیں ہم چار بہنیں ایک بھائی۔خالہ جی کا بھی ایک ہی بیٹا تھا مگر وہ اُن کے ساتھ نہیں رہتا تھا۔ہم سب کا آپس میں بہت میل جول تھا۔درمیان میں ایک چھوٹی سی دیوار ہوتی تھی وہ بھی اکثر آندھیوں سے گری رہتی۔خالہ جی کے گھر میں ہمیشہ گائے بھینس ہوتی جس سے ہمیں دودھ وغیرہ میں سہولت ہوتی۔وہ لوگ زمیندار تھے، مونجی اور گیہوں بھی ہماری اکٹھی ہی آجاتی اور جب کبھی چور، چور کا شور مچانا ہوتا تو وہ بھی ہم سب مل کر ا کٹھے ہی مچالیتے۔دو گھر لگتے ہی نہیں تھے۔مجھے یاد آتا ہے (211)