میری پونجی — Page 153
تھے یعنی اپنے گھر کی ہر چیز ہم نے مستحق لوگوں میں بانٹ دی تھی۔ضرورت کی کوئی چیز ہمارے پاس نہیں تھی۔یہاں رہنا بھی دشوار تھا اور پاکستان جانا بھی اب کوئی آسان کام نہیں تھا اور اب جس گھر میں ہم رہتے تھے وہ بھی ہم چھوڑنا چاہتے تھے۔اُس میں بھی صدیقی صاحب نے ہماری مدد کی اور ہم وہاں سے کرایہ کے دوسرے مکان میں چلے گئے۔صدیقی صاحب کے رشتہ دار تھے وہ بھی صدیقی صاحب تھے۔اُن کے گھر ہم ایک سال رہے۔اُنہوں نے بھی دُکھ دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی کبھی ہمارا پانی بند اور کبھی گیس بند۔بلال اب ماشاء اللہ تقریباً چار سال کا ہوگیا تھا مگر اسکوگود میں ہی اُٹھانا ہوتا کہ نیچے بچوں کے پاؤں کی آواز آتی ہے۔یہاں تک کہ وہ مالک مکان یہ کرتے کہ جب ہم گھر پر نہیں ہوتے تھے تو ہماری ڈاک اور کمروں کی تلاشی لیتے۔ہمارے کسی دروازے کو تالا نہیں لگا ہوا تھا۔پھر بھی اُن کا ہر وقت ایک اصرار ہوتا کہ گھر خالی کر دیں۔ہم گھر خالی کر کے نہیں جا سکتے تھے کیونکہ ہمیں ہوم آفس کا نوٹس آ گیا تھا کہ پندرہ دن کے اندر آپکو واپس اپنے ملک جانا ہوگا، کرایہ وغیرہ ہم دیں گے۔یہ 1974ء کی بات ہے انہیں دنوں پاکستان میں ہم احمدیوں کے خلاف ربوہ میں اور دوسری جگہوں پر ہنگامے ہورہے تھے ہمارے وکیل نے کچھ اس کو base بنایا اور کچھ اپنے دلائل سے قائل کیا۔الحمد للہ فیصلہ ہمارے حق میں ہو گیا اور ہمیں کونسل نے فلیٹ دے دیا جس سے ہم بہت خوش تھے۔ہمیں لگتا تھا کہ انشااللہ اب ہماری مشکلات کم ہو جائیں گی۔دو سال ہم نے انتہائی مشکلات میں گزارے تھے۔اب جو فلیٹ ہمیں ملا تھا وہ پورے کا پورا انگریزوں کا علاقہ تھا، میرے تینوں بچوں نے سکول جانا شروع کر دیا ، سامی صاحب کو بھی کسی فیکٹری میں کام مل گیا اور ساتھ انہوں نے ڈرائیونگ بھی پاس کر لی یہ نہیں بتاؤں گی کتنی بار فیل ہوئے) سستی سی گاڑی بھی خرید لی تو سوچا کیوں نہ ٹیکسی چلانا شروع کر دوں۔تھوڑی آمدنی اچھی ہوگی تو ہاتھ کھل جائے گا۔اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کل ہمارے ساتھ کیا ہوگا۔انسان تو اپنے طور پر بہتری کی سوچتا ہے لیکن ابھی ہمارے امتحان ختم (153)