میری پونجی

by Other Authors

Page 93 of 340

میری پونجی — Page 93

1936ء کے قریب اگر چہ اماں جی اپنے نئے مکان میں چلی گئیں ، جو انہوں نے بادیاں دا باغ کے سامنے بنوایا تھا۔لیکن محبتیں اور تعلق بدستور قائم رہے۔ایک دن بادیاں دے باغ کے ایک پیٹر کے سائے میں سخت گرمی اور تپش سے بچنے کیلئے ایک خاتون بیٹھی تھیں جس کی گود میں ایک شیر خوار بچہ تھا اور گرمی کی شدت سے بالکل بے ہوش پڑا تھا۔وہ خاتون زار وزار رورہی تھی۔اتفاق سے میں بھی وہاں کھیل رہا تھا ، جب میں نے یہ ماجرا دیکھا تو بھاگ کر اماں جی کو بتایا۔وہ بھاگم بھاگ میرے ساتھ آئیں۔اس خاتون کو جا کر تھاما دلاسا دیا۔بچے کو گود میں لیا اور فوراً اپنے گھر لے آئیں، اسے ٹھنڈک پہنچائی۔دیکھتے ہی دیکھتے اس بچے نے آنکھیں کھول دیں۔اماں جی نے ہمیں ریتی چھلہ کی طرف دوڑایا کہ اس بچی کے باپ خواجہ ناصر احمد صاحب کو بلا کر لائیں۔اُن دنوں وہ وہاں فروٹ کا کاروبار کرتے تھے۔سالوں پر پھیلے ہوئے بظاہر یہ دو عام سے واقعات نظر آتے ہیں۔لیکن قدرت کی شان دیکھیں کہ وہی لڑکی جو اماں جی کے ہاں نوزائیدہ بچے کو دیکھنے کیلئے تحفوں کے ساتھ گئی تھی۔بالآخر اسی بچے کی ساس بہنیں ( یعنی حلیمہ بیگم اہلیہ شیخ محمد حسن صاحب آف لندن ) اور شیر خوار بچہ جو بادیاں دے باغ میں اپنی ماں کی گود میں بے ہوش پڑا تھا، جس کو اماں جی نے گود لیا اور ٹھنڈک پہنچائی وہ بچہ خواجہ منیر احمد صاحب آف ربوہ ہیں اور وہ اس بچے کے سدھی بنے جس نے انہیں بچپن میں اپنی ماں کی گود میں بے ہوش پایا تھا۔جبکہ عزیزم منیر شہزاد احمد کے ساتھ ان کی بیٹی شازیہ بیاہی گئی اور اب اللہ تعالی کے فضل سے اس کی گود میں اماں جی کا پڑپوتا شاہزیب کھیل رہا ہے۔( جب یہ مضمون سامی صاحب نے لکھا تھا تو ایک ہی بیٹا تھا اب ماشا اللہ تین بیٹے ہیں ) اللہ تعالیٰ خادم دین بنائے اور صحت و سلامتی سے رکھے۔نصف صدی پہلے تپ دق ایک ایسا مہلک مرض تھا کہ جس گھر میں آجا تا تھا وہ کنبے کا کنبہ ہلاکت کی لپیٹ میں ہوتا۔ایک موقعہ پر ہمارے گھر کے سامنے باغ میں کسی دیہات سے ایک تپ دق کا (93)