میری پونجی

by Other Authors

Page 92 of 340

میری پونجی — Page 92

محترمہ حاکم بی بی صاحبہ (مرحومہ) صاحب (مرحومه) بشیر الدین سامی صاحب اپنی والدہ محترمہ صاحبہ کے متعلق لکھتے ہیں: 1919-20ء میں جب میری والدہ محترمہ اماں جی حاکم بی بی صاحبہ شادی کے بعد قادیان آئیں تو وہ احمدی نہیں تھیں۔انہوں نے نہ تو کلام اللہ پڑھا ہوا تھا اور نہ ہی اردو لکھنا پڑھنا جانتی تھیں۔کہتے ہیں جیسے ہی قادیان آئیں ، تو محترمہ بیگم جی صاحبہ کی تربیت میں انہوں نے کلام اللہ ناظرہ ، اردو، اور دیگر دینی باتیں سیکھ لیں۔اوّل اوّل مکرم ملک صلاح الدین صاحب ایم اے کے مکان میں ٹھہریں۔اڑوس پڑوس کا ماحول اخوت اور محبت کا ایک مثالی ماحول تھا۔قرب وجوار میں مولوی غلام نبی صاحب، مکرم فضل محمد صاحب بابا ہر سیاں والے، مولوی بقا پوری صاحب ،مکرم عبد الرحمن صاحب مہر سنگھ، مکرم عبید اللہ صاحب بسمل، مکرم فضل الرحمن صاحب حکیم، اور مکرم ابوا العطاء صاحب جالندھری جیسے بزرگ گھرانے آباد تھے۔1922ء میں جب حضرت امام جماعت احمد یہ ثانی ( ہماری دلی دعا ئیں آپکے لیے ) نے اباجی سردار مصباح الدین صاحب کو انگلستان کے مشن میں خدمت کیلئے بھجوایا۔تو مکرم بابا ہر سیاں والے از خود اماں جی اور ان کی بیٹی فاطمہ کا خاص خیال رکھتے اور اپنی بچیوں حلیمہ بیگم اور سردار بیگم کو ان کی دیکھ بھال کیلئے مقرر کر دیا تا کہ ان کی بیٹی فاطمہ کے ساتھ جا کر کھیلا کریں۔اماں جی کے بطن سے جب چوتھا بیٹا پیدا ہوا تو اس وقت حلیمہ بیگم اور سردار بیگم بڑی ہو چکی تھیں ان کو جب پتہ چلا تو تحفہ تحائف کے ساتھ اس نوزائیدہ بچے کو دیکھنے گئیں۔لیکن وہ کیا جان سکتی تھیں کے قدرت کو آگے جا کر کیا منظور ہوگا۔(92)