میری پونجی — Page 82
ڈاکٹر صاحب کی عظمت اور سعادت مندی کی جی بھر کر داد دی۔اس جاندار واقعہ کے سفید پگڑی اور سفید لمبی داڑھی والے مرکزی کردار محترم سردار مصباح الدین صاحب تھے جن کا ڈاکٹر صاحب بے حد احترام کرتے تھے۔یہاں اس بات کا بھی ذکر کر دینا ضروری ہے کہ جناب قاسم محمود صاحب کی نظروں نے ایسا دھوکہ کیوں کھایا جس سے ان کے خیالات ڈاکٹر صاحب کیلئے متزلزل ہوئے۔امر واقعہ یہ تھا کے حضرت سردار صاحب کے کولھے کی ہڈی اس بری طرح ٹوٹ چکی تھی کہ باوجود آپریشن کے وہ اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو سکتے تھے۔جس کی وجہ سے وہ وہیل چیئر استعمال کرنے لگے۔ادھر کان کی شنوائی بھی اس بری طرح متاثر تھی کہ کان کے ساتھ ہی لگ کر بات ہوسکتی تھی اور وہ بھی بہت مشکل کے ساتھ۔انکی وہیل چیئر اونچی سطح کی تھی وہ ہمیشہ سفید پگڑی پہنتے تھے، سفید داڑھی تھی اور سفید شلوار قمی۔ڈاکٹر صاحب جو انتہائی مصروفیت کے عالم میں تھے اور کسی انگلی ہی فلائٹ سے واپس جانے والے تھے ان کی سعادت مندی کی انتہا تھی کہ انہوں نے اپنے اس بزرگ کو پہلے ملنا پسند فرمایا تا کہ چند ساعت ہی سہی وہ ان سے مل سکیں۔یہ ڈاکٹر صاحب کی ان سے آخری ملاقات تھی۔جس کیلئے ڈاکٹر صاحب کو یقینا مکمل جھکنا پڑا اور خیریت معلوم کرنے اور دعا کیلئے کہنے کے لیے کانوں کے قریب ہونا پڑا۔یہ وہ نظارہ تھا جس کو ایک اجنبی ایک چھوٹی سی جھری میں سے دیکھ کر غلط نہی میں پڑ گیا۔بزرگوں کا احترام دراصل ڈاکٹر صاحب کی گھٹی میں ہی تھا۔اس واقعہ کی تفصیل کے بعد ڈاکٹر صاحب کے خطوط سے ان کے عجز و اخلاص کا اظہارا اپنی جگہ ہے۔ڈاکٹر عبدالسلام صاحب/ 119اکتوبر 1979ء کے عریضہ میں والد بزرگوار سردار صاحب کو لکھتے ہیں: د گرامی قدر زاد عنا یتکم ! آپ کا خط پڑھ کر رقت طاری ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے ایسے وجود بھی پیدا کئے ہیں جو محض اللہ ایسی محبت رکھتے ہیں۔یہ احمدیت اور اسلام کا اثر ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کی عمر اور صحت میں برکت دے اور آپ جیسی ہستیاں ہمیشہ کیلئے (82)