میری پونجی

by Other Authors

Page 74 of 340

میری پونجی — Page 74

مولوی فضل الرحمن صاحب ، حضرت چودھری فتح محمد صاحب سیال حضرت ذوالفقار علی خان صاحب حضرت مولانا محمد دین صاحب ، حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب ، حضرت نواب عبداللہ خان صاحب حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب۔غرضیکہ ایک قافلہ تھا جس کو انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اوجھل ہوتے ہوئے دیکھا۔ہر جدائی کا غم سہا، ہر ایک کی قبر پر مٹی ڈالی اور آنسو بہائے۔مگر ان کے پرانے ساتھیوں میں سے اب کوئی بھی ان کی اپنی قبر پر مٹی ڈالنے والا نہ رہا اور وہ اس قافلہ کی آخری یاد گار شخصیت تھے جن کو مسجد لندن کی بنیادی خدمت کی سعادت حاصل ہوئی تھی۔ان کے کاغذات میں سے ایک منظوم تراشہ شاید انہی جذبات کا غماز ہے۔قدم قدم پہ جدائی کا داغ دے کے مجھے اتر گئے میرے کتنے ہی یار قبروں میں نہ باغ میں رہا سبزہ نہ پھول شاخوں پر چلی گئی میری ساری بہار قبروں میں کدھر گئے وہ میرے اشک پونچھنے والے کہاں چھپے ہیں میرے غم گسار، قبروں میں والد صاحب کے تعلقات (سیف الدین سیف) والد محترم سردار صاحب کے تعلقات کا دائرہ بہت وسیع تھا۔ان میں اڑوس پڑوس والے بھی شامل تھے اور محلے والے بھی۔پھر اس سے باہر نکل کر بڑے بڑے دانشور علم دوست،سوشل اور سیاسی حلقوں کے ذی اثر حضرات اور سرکاری اہل کار سبھی شامل تھے۔جناب نصیر احمد فاروقی صاحب جو حکومت پاکستان کے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے ، خاص طور پر جب صدر ایوب کے زمانے میں وہ پرنسپل سیکرٹری تھے تو پاکستان میں بہت معروف ہوئے۔محترم سردار صاحب سے اس حد تک (74)