میری پونجی — Page 71
سے کمیٹیوں کے ذریعہ قسط وار رقوم ادا کرتی رہتیں۔مرحومہ نے ۶۵ سال کی عمر میں وفات پائی۔حضرت خلیفہ امسیح الثالث نے بہشتی مقبرہ میں تشریف لا کر نماز جنازہ پڑھائی۔تدفین کے بعد حضرت مولانا ابوالعطاءصاحب نے دعا کروائی۔والد محترم سردار صاحب کا سفر آخرت والد محترم سردار صاحب عمر کے آخری حصہ میں بھی چنیوٹ میں ہی رہنا اس لحاظ سے پسند کرتے تھے کہ یہ ربوہ کے قریب ہے۔چنیوٹ سے باہر رہنے میں انہیں گھبراہٹ رہتی تھی کہ ایسانہ ہو کہ کوچ کا وقت آجائے اور وہ خاک جس خاک سے ملنے کی آرزو رکھتی ہے وہ کسی مسافت کی وجہ سے ادھر ادھر بکھر جائے۔مگر چنیوٹ میں چوبارہ کی رہائش ان کے چلنے پھرنے کیلئے موافق نہ تھی۔اس لیے انہیں با امر مجبوری کراچی اپنے بڑے بیٹے عبدالسبحان مرحوم کے ہاں منتقل ہونا پڑا۔مگر کراچی کے گزرے ہوئے ایام انکے لیے کوئی خوشگوار نہ تھے۔ایک تو چلنے پھرنے کی معذوری دوسرے مرکز سے دوری اور پھر دیرینہ ملنساروں کی جدائی۔یہ ساری کیفیات اُنہیں ماہی بے آب کی طرح تڑپاتی رہتی تھیں۔گھر والوں کو ہر دم یاد دلاتے رہے کہ جب کوچ کا وقت آجائے ، اس خاک کو اسی خاک میں لیجائیں جس خاک سے ملنے کا شروع دن سے عہد باندھا تھا۔1988ء میں اُن کی صحت زیادہ گرنی شروع ہو گئی۔آہستہ آہستہ خوراک میں بھی غیر معمولی کمی ہو گئی۔ہسپتال لیجایا گیا لیکن دو دن کے بعد فرمایا کہ مجھے گھر واپس لے چلو۔گھر آکر حالت زیادہ بگڑ گئی ، اگست کی پہلی تاریخ تھی صبح سے ہی قبلہ رخ لیٹنا شروع کر دیا، گھر والوں نے بستر کی مناسبت سے انہیں ٹھیک سے لٹادیا لیکن خدا جانے کونسی طاقت تھی جس سے وہ گھسٹ گھسٹ کر پھر چار پائی کے درمیان قبلہ رخ ہو کر لیٹ گئے۔ایک بجے حالت بگڑ گئی ڈاکٹر کو بلایا گیا۔اسنے کہا اب یہ تھوڑی دیر کے مہمان ہیں ، خدا جانے یہ آواز اُن کے کان تک کیسے پہنچی یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے لقاء کی خوشخبری پاچکے تھے کہ والد محترم سردار صاحب پہلے خوب ہنسے اور پھر ہمیشہ کیلئے خاموش ہو گئے اور اپنے مولائے حقیقی سے جاملے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔(71)