میری پونجی — Page 70
کریں۔اپنے والدین کے گھر سے قرآن کریم کے کچھ ہی سپارے پڑھ کر آئی تھیں۔قادیان آنے کے بعد محترمہ بیگم جی اہلیہ مولوی غلام نبی صاحب مصری سے قرآن کریم پڑھا اور ترجمہ بھی پڑھا اور دینی مسائل کی واقفیت بھی حاصل کر لی۔انہیں پختگی ایمان میں العجائز کا مقام حاصل تھا۔عملی دائرہ میں نہ صرف پنجوقتہ نماز کی پابند تھیں بلکہ نماز تہجد سے بھی بہرہ ور تھیں۔قرآن کریم غذائے روح تھی، درود شریف پڑھنا خاص وظیفہ تھا، لڑکے لڑکیوں کو قرآن کریم پڑھانا زندگی بھر کا محبوب مشغلہ تھا۔رویاء صالحہ اور کشوف کی نعمت سے بھی بہرہ ور تھیں۔رویاء میں آنحضرت صلی ایتم اور حضرت مسیح موعود کی زیارت سے مشرف تھیں۔ساری زندگی اس دنیا کی کوئی زینت کوئی کشش انہیں اپنی طرف مائل نہ کرسکی۔سادہ بالعموم سوتی لباس زیب تن رہا۔عامتہ الناس کو میسر آنے والی غذا پر شکر بھرے دل سے قانع رہیں۔غرضیکہ زینت الحیات الدنیا سے مرحومہ نے اپنا دل مستغنی رکھا۔حضرت امام مہدی پر ایمان کی سعادت پالینے کے بعد دنیوی نعماء میں کمی یا حرماں کا احساس دل کے قریب تک نہیں آنے دیا۔نظافت اور طہارت کے بارے میں مرحومہ بڑی حساس تھیں اور دل و نگاہ کی پاکیزگی میں غض بصر ہی شعار تھا۔گھر سے جب بھی باہر نکلتیں ،راستہ میں جہاں کوئی سائل ہاتھ پھیلاتا، وہیں کچھ نقدی اس کے ہاتھ پر رکھ دیتیں۔گھر میں کثرت سے مہمان داری رہتی تھی۔ہمت اور کشادہ دلی کا یہ عالم تھا کہ کتنے ہی مہمان آجائیں پوری خوش دلی سے انکی مدارت کرتیں۔قادیان میں تو اپنا مکان تھا لیکن پاکستان آجانے کے بعد ربوہ میں اپنا مکان نہ تھا۔اس لیے جلسہ سالانہ کے ایام میں کسی چھولداری یا خیمہ میں ڈیرہ کرنا پڑتا۔جلسہ کے مہمانوں کی خدمت کے جذبہ اور روایت کو قائم رکھا۔تینوں دنوں کے دوران اپنے ڈیرے پر آنے والے مہمانوں کی خدمت کا شوق پورا کرتی رہتیں۔شوہر کی خدمت ، مرحومہ کا زندگی بھر نصب العین رہا۔خود پھٹا پرانا پہن لیا لیکن شوہر کی وضعداری میں کوئی فرق نہ آنے دیا۔مرحومہ موصیہ تھیں۔نہ صرف اپنا حساب صاف رکھنے میں حساس تھیں بلکہ میرے حساب کے بقایا جات صاف کرنے کیلئے عورتوں کے تعاون (70)