میری پونجی

by Other Authors

Page 67 of 340

میری پونجی — Page 67

اس آیت کریمہ میں اس صراحت سے اظہار کے باوجود کہ حق میری طرف سے نازل ہوا ہے اور قبول کرنے اور ماننے کیلئے ہی نازل کیا گیا ہے لیکن پھر بھی بندوں کو اختیار دیا گیا ہے کہ چاہو تو قبول کرونہ چاہو تو نہ قبول کر وہ کسی پر جبر نہیں۔سوحق کے قبول اور رڈ کے بارے میں یہ پوزیشن ہے۔لیکن قبول کرنے والوں پر صرف اس حق کو قبول کرنے کا ہی حکم ہے۔بلکہ یہ بھی کہ اس حق کے پھیلا نے دوسروں تک پہنچانے ، دوسروں کے قبول کروانے میں وہ اس مامور من اللہ کی طرح مکلف ہوتے ہیں کہ اس حق کی اشاعت انکی زندگی کا نصب العین ہو جائے۔یہ جو کچھ ہم پر ظاہر ہے کہ حق کو قبول کرنے کے بعد مومن خود مبلغ ہو جاتا ہے۔ظاہر ہے دوسروں کو حق کے قبول کرنے کی دعوت دینے والے کے عمل اور قبول سے عیاں ہوتا ہے کہ وہ سب کی نگاہ میں خود اس صداقت پر ایمان لانے والا اور اس پر عمل کرنے والا ہے۔یہ حق کو قبول کرنے والوں کا اصل مقام ہوتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ جو انسانوں کا خالق ہے وہ اسکی کمزوریوں سے بھی آگاہ ہے کہ بعض ایسے بھی ہوتے ہیں وہ حق کو قبول تو کر لیتے ہیں لیکن کچھ ایسی کمزوریاں ان سے لاحق ہوتی ہیں کہ وہ قبولیت حق کا دوسروں کے سامنے اظہار نہیں کرتے۔تو اللہ تعالیٰ نے ایسی پوزیشن کو بھی شرائط کے ساتھ روا رکھا ہے۔جیسا کہ سورۃ مومن کے چوتھے رکوع کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے درباریوں میں سے ایک مومن کا ذکر کیا ہے۔جس کے متعلق یہ الفاظ استعمال فرمائے ہیں: يَكْتُمُ ايْمَانَةٌ (الغافر : ٢٩) وہ حضرت موسیٰ پر ایمان لا چکا تھا لیکن دوسروں پر ظاہر نہیں کرتا تھا۔لیکن وہ اُن کو کہتا ہے کہ دیکھو تم موسیٰ کے قتل کے درپے ہو گئے ہو حالانکہ وہ خدا کی طرف سے آنے کے متعلق نشان تمہارے سامنے لا چکا ہے۔جسے تم سمجھتے ہو وہ کا ذب ہے تم اسکے قتل کے در پے نہ ہو کیوں کہ اس کے کذب کا وبال ہی اس پر موت وارد کر دے گا اور سنو اگر وہ صادق ہے تو اسکو صادق نہ ماننے سے اور اسکے در پے آزار ہونے سے جو وبال ہے وہ تم پر وارد ہو جائے گا۔یہ کہنے کے ساتھ اُن کو وعظ کیا ہے اور (67)