میری پونجی — Page 66
والد صاحب وسیع مطالعہ رکھتے تھے۔مختلف کتب، رسائل اور روزمرہ کے اخبارات انگریزی اور اردو کا مطالعہ ان کی روح کی غذا تھی۔اخبارات باقاعدگی سے خود جا کر لاتے اور صفحہ بہ صفحہ پڑھتے۔جہاں کوئی اچھا مضمون یا شعر پسند آجاتا اس کا تراشہ رکھ لیتے اور مضمون نگار کو اپنے تبصرہ سے نوازتے۔کراچی کے ایک علمی وادبی مجلہ تقاضے نے فرعون نمبر نکالا، اس پر اس مجلہ کے مدیر اعلیٰ پیام صاحب کو اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: اپنی سخن وری پر میری سخن شناسی بھی دیکھ لیں جیسے شعراء اپنی نظم میں ایک شعر یا مصرع کو نظم کی جان قرار دیتے ہیں فرعون نمبر میں آپ کا اداریہ اس تمام نمبر کی جان ہے۔اگلی ایک نہایت ضروری بات کے ذکر میں لانے سے پہلے گفتہ آئید در حدیث دیگر اں کے ذیل ، آپ کی مہارت سخن گوئی کے ضمن میں بتلاتا جاؤں کہ منفتاح کے نام سے ہی آپنے ضیاء کے جماعت احمدیہ کے ساتھ ظالمانہ روش کا کھل کر ذکر کر دیا ہے۔اور جیسا کہ آپ نے اظہار کیا ہے انشاللہ جماعت تو با سلامت دریا پار ہو جائے گی۔مگر فرعون غرق ہو کر ہی رہے گا۔اگلی بات تقاضے کے کراچی میں قیامت صغری نمبر میں قادیانیوں کا کلمہ کے تحت جو حافظ مبارک علی قاسمی کے خط اور اس پر جو اظہار کیا ہے اس سے وہ بات ابھری ہوئی ہے اور آپ تصور نہیں کر سکتے کہ اس بات کے سامنے آنے پر میرے دل میں یہ دعا ڈالی گئی ہے اور جس احساس سے اللہ کے حضور کرنے لگ گیا ہوں۔وہ دعا اور میرے انداز، اثر سے خالی رہنے والے نہیں۔66 آگے چل کر مدیر اعلی صاحب کو ایک اور حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی صداقت کا نزول ہو تو خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَقُلِ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْ مِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرُ لا (66) (سورة الكهف: آیت 30)