میری پونجی

by Other Authors

Page 51 of 340

میری پونجی — Page 51

بھول گئے۔پہاڑ جنگلوں میں ایسے گم ہوئے کہ دن ڈھل گیا مگر ہمیں قیام گاہ کا راستہ نہ ملا۔بھٹکتے بھٹکتے دور سے ایک چھوٹی سی بستی پر نظر پڑی جہاں سے اپنے راستہ کی راہنمائی حاصل کی۔اس طرح صبح کے بھولے شام ڈھلے اپنی قیام گاہ پر پہنچے۔اس دوران حضور بہت پریشان رہے اور ادھر اُدھر تلاش کیلئے خدام کو دوڑایا۔حضرت ام المومنین کا بھی فکر کے مارے برا حال تھا۔بار بار پوچھتی تھیں کہ کچھ پتہ چلا۔قیام گاہ پہنچتے ہی ہم نے فوراً حضرت ام المومنین کی خدمت میں اطلاع دی تو آپ کمال شفقت سے پیش آئیں اللہ تعالیٰ کا شکر بجالائیں اور اپنی فکرمندی اور بے چینی کا اظہار فرمایا۔“ تعیناتی بطور پروفیسر جامعہ احمدیہ دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں ابھی ڈاک کی تعمیل بجالا رہا تھا کہ جامعہ احمدیہ کے انتظامات پائیدہ تکمیل کو پہنچ گئے اور حضرت خلیفہ امسیح الثانی نے مورخہ ۲۰ مئی ۱۹۲۸ء کو اس درس گاہ کا افتتاح فرمایا، حضرت سردار صاحب تحریر فرماتے ہیں: گرچه خوردیم نسبتے بزرگ حضور انور نے اس عاجز کو بھی جامعہ احمدیہ کے سٹاف میں شامل فرما دیا۔جامعہ کے اولین سٹاف کے ارکان حضرت مولوی سرور شاہ صاحب، حضرت سید میر محمد اسحاق ย صاحب ، حضرت مولوی محمد اسماعیل صاحب اور حضرت مولوی ارجمند خان صاحب کا مجھے رفیق کار ہونے کا شرف حاصل ہو گیا۔بزرگ اساتذہ کے ذمہ تو دینی تعلیم اور عربی درسگاہوں کی فنی تدریس تھی۔انگریزی مضمون پڑھانا اس عاجز کے سپر دہوا۔اس خدمت پر لگنا نہ صرف زندگی میں موجب عزت و رفعت ہوا بلکہ عاقبت میں بھی اجر بخش ہونے کی امید دلا گیا۔اور وہ یوں کہ مغربی ممالک میں جن مبلغین کے ذریعہ کار ہائے (51)