میری پونجی

by Other Authors

Page 326 of 340

میری پونجی — Page 326

تمہاری امی اور چھوٹی بہن بھی آئی تھیں لیکن تمہارے بھائی کو نہیں دیکھا۔غرض ہمیں دیکھ کر ایک کنبہ کی طرح پہچان جاتے تھے کہ کون آیا اور کون نہیں آیا۔اُن دنوں ہماری باتوں کا موضوع تھا تو ایک ہی ، وہ تھے پیارے آقا۔اُن کی ہی باتیں، اُن کا ہی ذکر خیر یعنی ہماری زندگیوں کا محور حضور انور ہی تھے۔مجھ جیسی ناچیز بیمار ہوئی تو گھر فون کر کے خیریت دریافت کر کے مجھ پر احسان کیا۔پھر جب بھی ملاقات ہوتی تو ایک ہی فقرہ دہراتے کہ تم مرنے سے بچ گئی ہو۔کیونکہ میرا ،ایک بہت ہی بڑا آپریشن ہوا تھا جس کی ساری تفصیل سے پیارے آقا کو آگاہ کیا گیا تھا اور پیارے آقا نے مجھے حفاظتی تدابیر بھی سمجھائی تھیں۔یہ تو میں ہوں لیکن صرف میں ہی نہیں یہاں تو احمد للہ ! ہر فرد ہی اس پیار کے چشمہ سے سیراب ہو رہا تھا۔یہاں میں چند اشعار لکھوں گی جو ہم سب کے دلوں کی ترجمانی کرتے ہیں ؎ جس کی الفت میں گرفتار تھے لاکھوں انساں اور وہ ایسا تھا کہ لاکھوں یہ فدا رہتا تھا ہاں وہی شخص جو رہتا تھا دلوں میں ہر دم وہ جو ہر سانس کی ڈوری میں بندھا رہتا تھا ہفت اقلیم میں پھیلائے ہوئے دستِ دعا بھیگی پلکوں سے ہر اک وقف دعا رہتا تھا ” مجھ سے ہی پیار وہ کرتا ہے یہ تھا سب کو گماں اس کا پیار ایسا تھا ہر دل میں بسا رہتا تھا عطاء المجیب راشد صاحب مورخه ۱/۲۲ پریل ۲۰۰۳ء ) اور پھر یہ کروڑوں لوگوں کے دلوں میں روحانی روح پھونک کر، پیار ومحبت کی جوت جگا کر ، دین (326)