میری پونجی

by Other Authors

Page 320 of 340

میری پونجی — Page 320

ہوئے ہونگے اور لینی شاید ابھی پورے دوماہ کی بھی نہیں ہوئی تھی۔سامی صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ بتاؤ اب ہم کیا کریں جبکہ اس وقت کوئی ٹرانسپورٹ بھی نہیں ہے، بچی بھی بہت چھوٹی ہے۔کیا تم اس چھوٹی بچی کے ساتھ بسوں کو بدل بدل کر رات بھر کا سفر کر لوگی؟ میرا جواب تھا میں ہر حال میں ربوہ جانا چاہتی ہوں اور پیارے آقا کا دیدار کرنا اور جنازہ میں شامل ہونا چاہتی ہوں۔اکتوبر کا مہینہ شروع کی سردی کا ہوتا ہے اور ویسے بھی پشاور میں پنجاب کی نسبت تھوڑی زیادہ ہی سردی ہوتی ہے۔ہم نے فوری اپنی دو ماہ کی بچی کو کمبل میں لپیٹا اور خود بھی موسم کے لحاظ سے چند کپڑے لیے اور ٹیکسی سے رات کو پنڈی پہنچے۔وہاں سے بس پر سرگودھا اور سرگودھا سے ربوہ پہنچے۔مسجد مبارک ربوہ کی صبح کی وہ اذان سنی جس کی گونج آج بھی میں اپنے کانوں میں محسوس کر سکتی ہوں۔وہ سوز وگداز میں ڈوبی اذان جو میرے کانوں تک آئی، وہ غم بھری رات کا سفر ہمیشہ مجھے یاد رہے گا۔یہ ہمارے روحانی رشتوں کا غم بھی ہمیں کہاں چین لینے دیتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ ہمارے زخموں پر فوری مرہم بھی لگا دیتا ہے جب ہم آنے والے خلیفہ کی بیعت کرتے ہیں تو الحمدللہ! ہمارے روحانی رشتے ،ساری وفائیں اور اطاعت سب اُس امام کے ساتھ وابستہ ہوجاتی ہیں۔حضرت خلیفتہ اسیح الثالث ” کے پورے دور میں میں اپنے وطن سے دور رہی ہوں لیکن جب بھی آپ کا لندن کا دورہ ہوا، الحمد للہ ! ہماری اور سب بچوں کی بہت یاد گار ملاقاتیں ہوتی رہیں۔لندن میں جب آپ کی وفات کی اچانک خبر ملی تو وہ گھڑی بھی قیامت کی تھی۔ہم سب مسجد لندن میں جمع ہو گئے۔جب تک نئے خلیفہ کی خوشخبری نہیں آئی دعاؤں میں لگے رہے۔پر اللہ تعالی نے روشن کی نئی کرن دکھائی جو دیکھتے دیکھتے آسمان پر چاند اورسورج کی طرح چکی اور ساری دنیا کو روشن کر دیا۔جی ہاں میں ذکر کر رہی ہوں حضرت خلیفہ اسیح الرابع” کا، جنہوں نے میرا خیال ہے صرف ایک سال پاکستان میں گزارا اور پھر ہماری خوش نصیبی کہ وہ ہمارے پاس لندن تشریف لے آئے۔(320)