میری پونجی — Page 321
اور۔۔۔۔۔۔۔پھر۔۔اُن کے ساتھ روح کا ایک کبھی نہ ختم ہونے والا رشتہ قائم ہوا۔پیارے آقا حضرت خلیفہ السیح الرابع 19 اپریل 2003ء کو کروڑوں لوگوں کو سوگوار چھوڑ کر اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔وہ جوا اپنی جماعت کے ہر فرد کو دعاؤں کا تحفہ دیتے تھے، روحانی سکون دیتے، جماعت کے ہر فرد کو اتنا پیار کرتے کہ ہر فرد واحد کو یہ ہی احساس ہوتا کہ حضور سب سے زیادہ مجھ سے ہی پیار کرتے ہیں۔میں اور میری پوری فیملی بھی اُن ہی خوش نصیب لوگوں میں شامل ہے جو پیارے آقا کی زیارت ، پیار، دعاؤں اور مشوروں سے ہر آن سیراب ہوئے ہیں۔کچھ باتوں کو دہرانے کی جسارت کروں گی۔ان باتوں کا بار بار ذکر کرنے سے بہت مزہ آتا ہے۔پیارے آقا کے آنے پر ہماری مسجد فضل لندن میں رونقیں ہی رونقیں ہو گئیں۔خطبات ،تقاریر اور مجالس عرفان کا ایک لامتناہی سلسلہ تھا جن کے فیض و عرفان سے لندن کا ہر احمدی سیراب ہوتا تھا۔ہم گھر دور ہونے کی وجہ سے شامل نہ ہونے پر دکھی ہوتے تھے۔اُس کا حل سامی صاحب نے یہ نکالا کہ گھر بدل کر مسجد کے قریب چلے جائیں اور اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان بھی پیدا کر دیئے۔یہاں میں محترمہ لئیقہ ظفر صاحبہ اہلیہ محترم ڈاکٹر ظفر محمود صاحب کا شکر یہ ادا کرنا ضروری سمجھتی ہوں۔میرے ابا جان اور لیقہ ظفر صاحبہ کے والد صاحب کے تعلقات کی وجہ سے ہمیں محترم ڈاکٹر ظفر ڈار صاحب کی سرجری کے اوپر والا آن فرنشڈ فلیٹ کرایہ پرل گیا۔بہت اچھا نیا گھر جو بہت مشکلوں کے بعد ہمیں ملا تھا چھوڑ کر ہم پیارے آقا کے قدموں میں اور مسجد کے در پر آبیٹھے۔گھر چھوڑتے ہوئے اُس وقت تو بہت مشکل لگ رہا تھا لیکن بعد میں جب روح کی غذا ملنی شروع ہوئی تو ہر بات بھول گئے۔یادرہا تو اتنا کہ صبح و شام ہم نوروں نہاتے رہے ہیں۔نمازیں ، تراویح ، درس ، خطبات جمعہ، مجلس عرفان سب کچھ ہماری دسترس میں تھا۔اس کے علاوہ جس بات نے ہمیں حضور کے بہت قریب کیا وہ تھا میری بیٹی لبنی کا حضور انور کے (321)