میری پونجی — Page 30
دور خلافت اولیٰ اور ورود قادیان حضرت مولوی فیض الدین صاحب سیالکوٹی نے سردار صاحب کے دینی جذ بہ او شوق کو دیکھتے ہوئے انہیں حضرت امام وقت مولانا نور الدین خلیفتہ المسیح اول کی خدمت میں بھجوانے کا پروگرام بنایا تا کہ وہاں جا کر وہ سلسلہ کے مفید وجود بن سکیں۔یہ تجویز سردار صاحب کے لیے بہت خوشی اور انبساط کا موجب ہوئی۔چنانچہ وہ 1910ء کے لگ بھگ قادیان کے لیے روانہ ہو گئے۔قادیان پہنچ کر حضرت خلیفہ اسیح اوّل کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دستی بیعت کا شرف حاصل کیا۔اس وقت کے قادیان کے ماحول کے ذکر میں بتایا کرتے تھے کہ سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کو ابھی چند سال ہی گزرے تھے ، جب میں قادیان پہنچا۔یہاں آکر مجھے ایسے لگا جیسے کھانے کی میز پر دستر خوان بچھا ہوا ہے اور مہمان بھی سبھی موجود اپنی اپنی نشست پر بیٹھے ہیں اور معزز میزبان ایسے لگتا تھا کہ ابھی ابھی اٹھ کر باہر گئے ہوں اور اُنکی نشست خالی ہے۔آہ ! بانی سلسلہ حضرت اقدس مسیح موعود اگر چہ خود موجود نہیں تھے مگر آپ کے صحابہ کی موجودگی کی وجہ سے ان کی اس محفل کی رونق اور گہما گہمی میں وہی ولولے، وہی جوش اور جذ بے کارفرما نظر آتے تھے۔ان کی اپنی تحریر کے مطابق ، عمر شعور کو پہنچنے پر ایسا ماحول پایا کہ احیائے دین کے چرچے سے فضا بھری ہوئی تھی۔انصار دین خدمت دین کے لیے زندگی وقف کیے ہوئے تھے اور والہانہ طور پر اس پر جان و دل لگائے ہوئے تھے۔اس منظر سے متاثر ہو کر بے اختیار یہی جذ بہ اُبھرا کہ اپنی زندگی بھی خدمت دین کے لیے وقف کر گزریں۔حسن اتفاق، اس جذبہ کے ابھرنے کے ساتھ ہی یہ دعا بھی کان میں پڑگئی اور اس انداز سے دل میں اتر گئی کہ وفور شوق طلب سے ہر آن در دزبان ہوگئی۔اللَّهُمَّ النَّصْرُ مَنْ نَصَرَ دِينَ مُحَمَّدٍ قادیان پہنچنے پر حضرت خلیفہ اسیح اول نے از راہ شفقت تدریس و تعلیم کیلئے تعلیم الاسلام ہائی سکول میں انتظام فرما دیا۔اس طرح تعلیم کا سلسلہ شروع ہو گیا اور صحبت صالحین بھی میسر ہو گئی اور (30)