میری پونجی — Page 298
جب بھی رات کو آنکھ کھلی تو دونوں میاں بیوی بیٹھے ہیں اور کمپیوٹر چل رہے ہیں۔مجھے یقین نہیں آیا یہ وہی چھیمو ، ہے نازک سی جس کے سر پر بہت گہری چوٹ آئی تھی ، اُس میں اللہ تعالیٰ نے ایک اور قابلیت کی sim ڈال دی ہے۔آج سچ پوچھیں تو میں اپنی بہن پر بہت فخر محسوس کرتی ہوں۔تقریباً 76 سال کی عمر میں یہ سب سیکھ کر اُس نے اپنے بڑھاپے کو کارآمد ہی نہیں بنالیا ہے بلکہ بہت سے بڑی عمر والوں کیلئے نمونہ بن گئی ہیں۔greeting card وہ خود بناتی ہیں ، غرض یہ جو میں لکھ رہی ہوں تھوڑے کام ہیں۔وہ تو اپنی کتاب خود لکھیں تو بات بنتی ہے۔آپا کے ماشا اللہ چار بچے ہیں۔بیٹا شیخ عبدالوحید ان کی بیگم امتہ العظیم، بیٹا شیخ سلیم احمد ان کی بیگم شگفتہ، بیٹی قراۃ العین اہلیہ شمائل، بیٹی خولہ مجید صاحبہ۔الحمد للہ سب صاحب اولاد ہیں۔مجھ سے چھوٹی بہن امتہ العزیز صاحبہ اہلیہ منظور احمد صاحب۔یہ بہن مجھ سے چھ سال چھوٹی ہے۔میرے بعد میرا بھائی رشید پیدا ہوا تھا جو چھ ماہ کا ہو کر فوت ہو گیا تھا۔یہ بہن ہم دونوں بڑی بہنوں سے اچھی رہی اور اس نے اپنی تعلیم مکمل کی۔عزیز امی جان کی طرح ہی بہت باہمت اور ارادوں کی بہت مضبوط ہے۔جس کام کا سوچ لیتی اُس کو پورا کرنے کی پوری کوشش کرتی ہے۔یہ بچپن سے ہی بہت محنتی تھی۔جیسے میں گھر کے کاموں میں زیادہ امی جان کا ہاتھ بٹاتی تھی اس طرح یہ باہر کے کاموں میں مدد گار تھی۔جب تک خالد بڑا نہیں ہوا باہر بازار کے کام عزیز ہی کرتی رہی عزیز کے سہارے کیلئے بشری بھی ساتھ ہوتی۔چھوٹے بڑے کام عزیز کے سپرد ہوتے تھے۔یہ میں ربوہ میں شروع کے دنوں کی باتیں کر رہی ہوں۔ربوہ والے گھر جس کے گھنے سایہ دار درخت کے نیچے بیٹھ کر گرمیوں میں ہم سب ٹوٹی ہوئی چوڑیوں کے ساتھ کھیلتے۔کیرم بورڈ اور لوڈو کی بازیاں ہوتیں۔ڈھیروں خربوزوں کے بیچ کھاتے۔وہ درخت بھی تو اِن نے منے ہاتھوں کا ہی لگایا ہوا تھا۔عزیز بڑی تھی ، بشری اور خالد دونوں کا ساتھ (298)