میری پونجی — Page 279
خدمت جب بھائی جی جیسا ہو اور اسکی آبیاری مکرم محترم مظہر صاحب جیسے صاحب بصیرت، عالم با عمل اور مشفق استاد کی ہوتو وہ کلی کیوں گلاب نہ بنے! باوجود اس کے کہ بھائی جی بہت ہی معمولی تعلیم یافتہ تھے مگر اُن کو جو صحبت نصیب ہوئی وہ غیر معمولی تھی۔یہی وجہ ہے کہ آپ پنجابی زبان میں سادہ دلائل سے ایسی پر حکمت بات کہہ جاتے جو دلوں میں کھب جاتی۔المور دنیا کی ادائیگی کیلئے انہوں نے’جلد سازی کا کاروبار شروع کیا خود اندازہ لگائیے کہ رہنا فیصل آباد میں اور کارو بار’جلد سازی! کیا آمدنی ہوگی ؟ مگر وہ اُسی حال میں مست تھے۔اپنے ہنر میں کمال حاصل تھا، اس لیے بتدریج شہرت فیصل آباد سے باہر کے شہروں میں بھی بڑھنے لگی اور پھر ربوہ کا قیام ہو گیا تو اُن کی شہرت کے ساتھ ساتھ اُن کی ذاتی مقبولیت بھی شامل حال ہوتی گئی اور بڑھتے بڑھتے اس حد تک پہنچی جس کی جھلک درج ذیل واقعہ سے عیاں ہوتی ہے۔سنایا کرتے تھے کہ : ایک دفعہ کوئی دوست ربوہ سے تشریف لائے اور مجھ سے فرمایا کہ میں حضرت ڈاکٹر مفتی محمد صادق صاحب کے خدام میں سے ہوں۔انہوں نے مجھے بھیجا ہے کہ اس کتاب کی جلد بنادیں۔میں نے جب وہ کتاب دیکھی تو کافی پرانی ہونے کے باعث اور اق شکستہ ہو رہے تھے۔اور اُس میں صرف نام ہی نام ہیں کوئی مضمون نظر نہیں آتا۔تب میں نے اُس دوست سے پوچھا کہ یہ کیا ہے تو انہوں نے بتایا کہ مفتی صاحب نے ان لوگوں کی فہرست بنائی ہوئی ہے جن کیلئے وہ ہمیشہ دعا کرتے ہیں۔میں نے وہ کتاب لے لی اور نہایت احتیاط سے اُس کے اوراق کو ترتیب دیا۔اور اُس کی جلد کر دی۔وہ دوست جزاکم اللہ کہہ کر ربوہ روانہ ہو گئے۔میں نے بھی کچھ عرض نہ کیا کہ اتنا خرچ ہوا ہے۔اگلے روز دیکھا تو وہ دوست پھر تشریف لائے اور فرمایا کہ مفتی صاحب کو آپ کا کام بہت پسند آیا ہے اور وہ دریافت کر رہے ہیں کہ جلد کے کتنے پیسے ہیں؟ میں نے اُن سے عرض کیا کہ میری طرف سے مفتی صاحب کی خدمت میں (279)