میری پونجی — Page 278
بھائی جی سے سلسلہ ملاقات کا آغاز اُن کی برطانیہ میں آمد سے شروع ہوا۔ابتداء ہی سے بھائی جی نے اپنے آپ کو اخبار احمدیہ سے منسلک کر لیا اور اُن کا نام نامی بھی جماعت میں پہچانا جانے لگا۔بتدریج بھائی جی کی خوبیاں پر دہ نہاں سے نکل کر عیاں ہونے لگیں جن میں احمدیت سے والہانہ عشق نمایاں تھا۔وہ اپنی بعض روایات بہت سادگی سے بیان فرماتے۔مگر سننے والے جانتے تھے کہ اُن سادہ سی روایات کے پس منظر میں دلیرانہ واقعات مضمر ہیں۔پیشتر اس کے میں کسی روایت کا ذکر کروں مناسب سمجھتا ہوں کہ عرض کرتا چلوں کہ قبولیت احمدیت سے قبل بھائی جی مجلس احرار ( لدھیانہ ) کے اُن چند سر کردہ لوگوں میں شمار ہوتے تھے جو کہ مجلس احرار کی عاملہ نے اپنی چرب زبانی سے اپنے ارد گرد جمع کر رکھے تھے اور اُن کے دلوں میں احمدیت کے خلاف نفرت و حقارت کا بیج بو دیا ہوا تھا اور وہ لوگ یقین رکھتے تھے کہ اس طرح وہ اسلام کی خدمت کر رہے ہیں۔جب اُن کی بے جا حرکتوں کے نتیجے میں نقض امن کا خطرہ پیدا ہو گیا تو اُس وقت کی نگران حکومت نے انہیں جیل بھجوا دیا۔بھائی جی بھی چونکہ پیش پیش تھے اس لئے وہ بھی گرفت میں آگئے۔تین ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔اُسی قید کے دوران جب انہوں نے احمدیت کی مخالفت پر غور کیا تو طبعاً چونکہ سعید فطرت تھے، ضمیر نے ملامت کی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیت کی طرف مائل ہونا شروع ہو گئے اور پھر حضرت مسیح موعود کے مظہر قول کے مطابق کہے " جس کی فطرت نیک ہے وہ آئیگا انجام کار بھائی جی آئے اور آغوش احمدیت میں آگرے۔بعد ازاں اپنی تمام تر کاوشیں احمدیت کیلئے وقف کر دیں۔جوں جوں صُحبت صالحین میسر آنی شروع ہوئی توں توں اُن کی محبت پروان چڑھتی گئی۔قیام پاکستان کے بعد فیصل آباد کو انہوں نے اپنا مسکن بنایا۔جہاں پر اُن کی خوش نصیبی نے انہیں حضرت محمد احمد صاحب مظہر (مرحوم) جیسے امیر جماعت کی صحبت سے نوازا۔جذبہ محبت و (278)