میری پونجی

by Other Authors

Page 268 of 340

میری پونجی — Page 268

کے فضل سے میسر تھی۔ابا جان کا اُن دنوں میں اسلام آباد کچن میں کام کرنا ہماری زندگیوں کا سنہری دور تھا۔جلسہ کے دنوں میں وہ ایک قسم کا ہمارا گھر بن جاتا تھا۔جلسہ میں دو پہر کا وقفہ اور شام کو جلسہ کے بعد امی جان کے پاس ٹینٹ میں مختلف ممالک سے آئے ہوئے مہمانوں کا تانتا بندھا رہتا اور ہمارے ابا جان کو ہر شخص کی خدمت کر کے خوشی ہوتی۔وہ صرف گھر والوں کی خدمت ہی نہیں کرتے تھے بلکہ اُن کی خدمت کا دائرہ بہت وسیع تھا۔اُن کو لوگوں کی خدمت کرنے سے سکون حاصل ہوتا تھا لیکن مزے کی بات یہ تھی کہ وہ خود وہاں لنگر سے کھانا نہیں کھاتے تھے۔اکثر اپنا کھانا وہ گھر سے لیکر جاتے جب زیادہ عرصہ رہنا ہوتا تو اپنا کھانا خود پکا کر کھاتے اور لوگوں کو بھی کھلاتے تھے۔اُس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ابا جان کو شوگر کی تکلیف تھی لیکن وہ پر ہیز سے اس تکلیف کو کنٹرول میں رکھتے تھے۔اس لیے وہ کوشش کرتے کہ وہی چیز کھائیں جو اُن کی صحت کیلئے ٹھیک ہو۔امی جان بھی جلسہ پر جانے سے پہلے مہمان نوازی کیلئے کھانے کا بے شمار سامان لیکر جاتیں۔بچوں کا ہمیشہ خیال رکھتیں اور اُن کو اچھی سے اچھی چیز کھانے کیلئے دیتیں۔سچ پوچھیں تو جلسہ کی اتنی اچھی اچھی یادیں ہیں کہ دل کرتا ہے بیان کرتے چلے جائیں۔لندن میں رہنے والے پرانے لوگ ابا جان کو بھائی حسن صاحب کے نام سے جانتے تھے۔لطیفہ کچن کا ایک چھوٹا سا لطیفہ بھی لکھ دیتی ہوں۔ابا جان کہتے ہیں کہ ایک نو جوان آیا کہ میں کچن میں آپ کے ساتھ کوئی کام کرنا چاہتا ہوں۔میں نے سوچا اس کو کیا کام دوں جس سے یہ شروع کر سکے۔میرے پاس ہری مرچیں پڑی تھیں میں نے اُسے کہا جاؤ یہ مرچیں دھو کر لاؤ۔تھوڑی دیر تک میں انتظار کرتا رہا۔پھر میں کیا دیکھتا ہوں کہ برتن دھونے والے صابن کی جھاگ سے سنک بھرا ہوا ہے اور وہ ایک ایک مرچ کو صابن سے مل مل کر دھو رہا ہے۔مجھے اُس کی اس قدر صفائی پسند طبیعت پر بہت ہنسی آئی۔اس سے مجھے یہ بھی اندازہ ہوا کہ ہمارے نو جوانوں کو گھروں میں کام کرنے کی کوئی (268)