میری پونجی

by Other Authors

Page 257 of 340

میری پونجی — Page 257

فرقان فورس میں شمولیت ۱۹۵۰ء میں جبکہ فرقان فورس اپنے اختتام کو پہنچ رہی تھی مرکز سے رضا کار بھجوانے کی تحریک ہوئی۔ان دنوں خاکسار فیصل آباد (لائلپور ) میں مقیم تھا۔محاذ پر جانے کا کیلئے مکرم عبد الرحمن صاحب گڈیاں والے) کا نام تجویز ہوا۔وہ اپنی کاروباری مجبوریوں کی وجہ سے نہیں جاسکتے تھے۔لہذا تجویز ہوئی کہ اُن کے بدلے کسی دوسرے شخص کو بھجوا دیا جائے اور وہ اُس کا خرچ برداشت کریں گے۔اور پھر جماعت کی نظر انتخاب اس عاجز پر پڑی لیکن میری مجبوری یہ تھی کہ عزیزم محمد اسلم کی ولادت کا وقت بہت قریب تھا اور میرا جانا ناممکن تھا۔باقی بچے بھی سب بہت چھوٹے تھے۔اس حالت میں اپنی اہلیہ کو چھوڑ کر جانا ممکن نہیں تھا۔جماعت کی تجویز اور اپنے سب خدشات کا ذکر اپنی اہلیہ سے کیا تو انہوں نے مجھے حوصلہ دیا اور کہنے لگیں کہ اگر آپ کو محاذ پر جانے کیلئے کہا جا رہا ہے تو آپ کو ضرور جانا چاہئے آپ میری فکر نہ کریں۔دنیا میں بے شمار ایسی عورتیں ہونگی جو بچوں کو جنگلوں میں جنم دیتی ہیں ، میں تو گھر میں ہوں آپ اللہ پر بھروسہ رکھیں اور جہاد میں ضرور شامل ہوں۔اپنی اہلیہ کے جواب سے اور اُس کے اس جذبہ سے میرا حوصلہ بہت بڑھ گیا اور جانے کا ارادہ کر لیا۔میری اہلیہ تمام وقت میری دعاؤں میں رہیں۔اللہ تعالیٰ اُن کو جزائے خیر سے نوازے۔آمین۔محمد اسلمہ کا نامہ فرقان فورس کی خدمات کے دوران ہی عزیزم اسلم کی پیدائش ہوئی۔میں نے وہیں سے حضور کی خدمت میں عزیزم کا نام رکھنے کی درخواست کی جس پر حضور نے نام محمد اسلم تجویز فرمایا۔یہاں میں یہ ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ جب میں محاذ پر جانے لگا تو حضرت خلیفہ اسیح الثانی سے ملنے گیا۔آپ نے خاکسار کا نام پوچھا تو جواب میں عاجز نے کہا محمد حسن حضور نے فرمایا کیا محمد اسلم ؟ خاکسار نے کہا نہیں حضور محمد حسن۔حضور نے پھر فرمایا اچھا اچھامحمد اسلم۔تیسری بار پھر حضور کو اپنا (257)