میری پونجی — Page 246
ہے۔میں ایک پکا مسلمان تھا لیکن مجھے مسلمان علماء نے جواب دینے کے بجائے اسلام سے بدظن کرد یا اور میں عیسائی ہو گیا۔آپ کے دلائل سے میری آنکھیں کھل گئی ہیں۔اس کے بعد انہوں نے بہت سے سوال کئے۔آخر پر کہنے لگے کہ مجھے اب احمدیت قبول کرائیں۔لہذا ان کو وہاں سے نکالنے کا پروگرام بنایا۔خاکسار اور بھائی غلام محمد صاحب رات کو چھپتے چھپاتے ان کے گر جا پہنچے۔ہم لمبی لمبی گھاس میں چھپ کر بیٹھ گئے اور وہ اپنا سامان ہمیں لا کر دیتے گئے۔رات ہی رات ہم ان کو قادیان لے گئے۔چند دن وہ مزید ز یر تبلیغ رہے بالا آخر دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔قادیان میں خاکسار کی شادی کی تحریک عاجز کی شادی اپنے عزیزوں میں طے پائی تھی۔وہاں بات ختم ہونے سے پورے شہر میں چرچا ہوا تھا۔اب نئی جگہ بات چلانے کے لیے مولانا احمد خاں صاحب نسیم نے تجویز پیش کی۔مولانا صالح محمد صاحب سے ان کی بہن کے بارہ میں ذکر کیا ، پھر بات آگے چلانے کی غرض سے مجھے قادیان کا سفر کرنا پڑا۔میرے ساتھ بڑے بھائی غلام نبی اور میرے تایا زا درحیم بخش صاحب بھی تھے۔قادیان میں حضرت میاں فضل محمد صاحب ہر سیاں والے کی صاحبزادی مکر مہ حلیمہ بیگم صاحبہ کا رشتہ زیر غور تھا۔لڑکی والوں نے خاکسار کا خاصا انٹرویولیا۔کم و بیش ہر بات کا جواب ان کی امیدوں کے برعکس تھا۔انہوں نے میری تعلیم کا پوچھا تو جواب نفی میں تھا، کاروبار کا پوچھا تو کوئی ایسا کام نہ تھا جو میں بیان کرتا۔والد صاحب کا ہاتھ بٹاتا تھاوہ بتا دیا۔آمد انداز اپندرہ بیس روپے بتادی۔خاکسار کے بڑے بھائی مجھ سے ناراض ہوئے کہ باتوں کا جواب تمہیں اس طرح نہیں دینا چاہے تھا۔کم از کم اپنی آمدنی تو معقول بتاتے۔خاکسار ان کی سرزنش پر خاموش رہا۔میں بے فکر تھا کہ جو کچھ بتایا ہے سچ تو بتایا ہے۔لڑکی والوں کی تسلی نہیں ہو رہی تھی۔خاکسارا پنا بیان دے کر وہیں چار پائی پر لیٹ گیا۔بھائی غلام محمد صاحب مرحوم " آپا صالحہ کے شوہر مجھے ملنے آئے تو مجھے سو یا ہوا پایا۔میری بے فکری پر لڑکی والوں کو حیرت ہوئی اور ہمیں جواب دے دیا۔ہم اگلے روز نا کام لاری کے اڈہ (246)