میری پونجی

by Other Authors

Page 244 of 340

میری پونجی — Page 244

اشتہارات کی طباعت کا ذکر تاریخ احمدیت میں نمایاں طور پر پایا جاتا ہے۔لدھیانہ کے بعض احباب سے گہرا تعلق رہا تقسیم ملک کے بعد میاں نور محمد صاحب کے خاندان کے افراد پاکستان آکر لاہور میں آباد ہو گئے۔غلام نبی صاحب ان کے بڑے بیٹے تھے۔بعد میں خاکسار نے ان کے بھائی محمد حسن صاحب کو نیروبی کے قیام کے دنوں میں سواحیلی ترجمۃ القرآن کی اشاعت کے مکمل ہونے پر جلد سازی کے کام کیلئے ایسٹ افریقن سٹینڈرڈ کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر سے کہہ کر نیروبی بلایا۔آج کل یہ دوست لندن میں ہیں۔جماعتی کاموں میں خاص دلچسپی لیتے ہیں۔“ کیفیات زندگی از شیخ مبارک احمد صاحب صفحه 31-30) مکرم شیخ صاحب کا تبادلہ ور مکرم مولانا احمد خان نیم صاحب کی تقرری جلد ہی شیخ صاحب کا تبادلہ ہو گیا اور آپ مشرقی افریقہ تشریف لے گئے۔آپ کی جگہ مولانا احمد خان نسیم صاحب آگئے اور مناظروں کا سلسلہ پھر سے جاری ہو گیا۔اب یہ بات پورے شہر کے لیے چیلنج تھی کہ احمدیوں کے دلائل کا جواب نہیں دیا جا سکتا۔یہ مناظرے میرے لیے بہت تقویت کا باعث بنے۔روز مرہ کی شکست سے تنگ آئے لوگ بے چین تھے کہ ایک دن علاقہ کے ایک شریف النفس پہلوان جن کا نام احمد دین پہلوان تھا، یہ مشہور زمانہ پہلوانوں کی حویلی تھی۔احمد دین وہ پہلوان تھے جو پٹیالہ میں گاما پہلوان (رستم زماں) اور امام بخش پہلوان کے اکھاڑے میں امامت کے فرائض ادا کرتے رہے ) ان کا پیغام آیا کہ آپ گھر میں بند ہو کر ہی بات کرتے ہیں یا سر عام بھی بات کر سکتے ہیں۔اس بات کا ذکر ہم نے مولوی صاحب سے کیا تو آپ نے کہا ہمیں تو کوئی اعتراض نہیں اگر امنِ عامہ کی ضمانت مل جائے تو ہم سر عام بھی بات کرنے کو تیار ہیں۔اس پر نیک نیت پہلوان صاحب نے امن بحال رکھنے کی ضمانت تحریر دے دی جس پر ان کی حویلی پر مناظرہ طے پا گیا۔خاکسار اور مولانا احمد خان نیم صاحب کے علاوہ میرے خالہ زاد بھائی غلام محمد (244)