میری پونجی

by Other Authors

Page 240 of 340

میری پونجی — Page 240

بعد گھر واپس آئے تو طے پایا کہ سب بابا عبد اللطیف کے گھر اکٹھے ہوں۔لطیف صاحب کے گھر پنچایت لگی۔میرے تمام رشتہ دار میرے ارد گرد جمع ہو گئے اور مجھے مجبور کرنے لگے کہ یہاں دستخط کر دوا گر کوئی پوچھے تو کہہ دینا میری برادری کا مجھ پر دباؤ تھا اس لیے میں نے ایسا کیا۔اب وقت گزارلو بعد میں جو جی میں آئے کرنا۔اس طرح کی کئی تجاویز پیش ہوتی رہیں اور دباؤ بڑھتا چلا گیا۔میری اُس وقت کی حالت کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔دل چاہتا تھا کہ یہاں سے بھاگ جاؤں لیکن ایسا کرنا بہت مشکل تھا بس اللہ پر توکل کئے ڈٹا رہا۔لڑکی والے بھی وہاں پہنچ گئے اور مجھ پرمزید دباؤ بڑھنے لگا۔تحریر والی بات چھوڑ کر اب زبانی اقرار کرنا ہی کافی سمجھا جانے لگا۔جب کوئی صورت دکھائی نہ دی تو لڑکی کے والد نے اپنی پگڑی میرے قدموں میں رکھ دی۔میں نے پگڑی اُٹھا کر اُن کے سر پر رکھ دی۔سب نے یہ سمجھا کہ میں مان گیا ہوں لڑکی کے باپ نے پوچھا کیا تم مان گئے ہو کہ تم مرزائی نہیں ہو؟ میں نے کہا ہاں! میں یہ تو مانتا ہوں کہ میں مرزائی نہیں مگر بفضل خدا احمدی ضرور ہوں۔یہ جواب سن کر لڑکی کا باپ سخت غصہ میں آ گیا اور کہنے لگا کہ اگر یہ نہیں مانے گا تو یہاں تین خون ہو جائیں گے۔میں نے ان کو سمجھایا کہ میں اتنی دنیا کے سامنے کھڑا ہوکر یہ اعلان کر رہا ہوں کہ میں احمدی ہوں آپ بھی ہمت کریں اور لوگوں کو بتائیں کہ میں نے لڑکی دینے کا وعدہ کیا ہے جتنی بھی مخالفت ہو یہ شادی ہوگی۔اس پر وہ خاموش ہو گئے اور میٹنگ برخاست ہوگئی۔جب یہ کاروائی ہو رہی تھی تو اللہ تعالیٰ نے میری حوصلہ افزائی کا سامان کیا۔جن کے گھر میٹنگ ہورہی تھی یعنی با با لطیف صاحب جو کہ خود غیر احمدی تھے اور اس وقت ان کی عمر کم از کم ستر برس کے قریب ہوگی۔مجھے ایک طرف لے گئے اور کہنے لگے کہ میری اتنی عمر ہو گئی ہے میں نے ایسا نظارہ کبھی نہیں دیکھا کہ لڑکی والے اپنی پگڑیاں اتار کر لڑکے کے پاؤں میں رکھیں اور وہ اپنے ایمان پر قائم رہے۔میرا مشورہ تمہیں یہی ہے کہ تم اپنا ارادہ پکا رکھو۔مجھے تمہارا پیر ومرشد کامل لگتا ہے۔مجھے ان کی بات سے مزید تقویت ملی۔اس اعصابی دباؤ سے اللہ تعالیٰ نے میرے حوصلہ کے سامان پیدا کئے۔میرے انکار (240)